لاہور میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ کے واقعے پر پنجاب حکومت کو قانونی نوٹس بھجوا دیا گیا ہے۔ نوٹس میں واقعے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل جوڈیشل ٹریبونل قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کیا گیا ہے۔
سکیورٹی انتظامات پر سوالات
قانونی نوٹس کے متن کے مطابق مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب میں گاڑی اور موٹر سائیکلیں انعام میں دینے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے باعث ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ تاہم ہجوم کو قابو کرنے اور سکیورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔
نوٹس میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اجتماع کی اجازت کیسے دی گئی۔
اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کی غفلت کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج
قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈرون ریکارڈنگز اور متعلقہ قانونی دستاویزات فوری طور پر محفوظ کی جائیں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جائے گی۔
واضح رہے کہ 31 اکتوبر کو سیالکوٹ کے ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں مسٹر پتلو کی شادی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
واقعے کے بعد پولیس نے مسٹر پتلو، ان کے بھائی اور دیگر منتظمین سمیت 9 نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے میں 40 سے 45 نامعلوم سکیورٹی گارڈز کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں مسٹر پتلو کو اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرینز سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس کے مطابق واقعے اور تقریب کے انتظامات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔





