سندھ میں 2008 سے زیادہ تر عرصے تک پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ہے۔ تقریباً دو دہائیوں کے اس عرصے کے بعد صوبائی حکومت کی کارکردگی کو وعدوں اور اعلانات کے بجائے عملی نتائج سے جانچنے کا سوال اہم ہو گیا ہے۔
مالی سال 2008-09 میں سندھ حکومت کا کل سالانہ مالی حجم تقریباً 267.7 ارب روپے تھا۔ یہ رقم 2017-18 میں بڑھ کر 1,043 ارب روپے ہوگئی۔
اس کے بعد سندھ کا سالانہ مالی حجم مزید بڑھا۔ 2023-24 میں یہ 2,247 ارب روپے، 2025-26 میں 3,452 ارب روپے اور 2026-27 میں 3,562 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ 2008-09 سے 2026-27 تک سال بہ سال اعلان شدہ مالی حجم کو جمع کیا جائے تو یہ رقم تقریباً 25 ہزار ارب روپے، یعنی 250 کھرب روپے بنتی ہے۔
گیارہ ستمبر 2026 کو تقریباً 277 روپے فی امریکی ڈالر کی شرح سے یہ رقم تقریباً 90.3 ارب ڈالر بنتی ہے۔ تاہم یہ صرف موجودہ شرح مبادلہ پر تقابلی اندازہ ہے۔ ہر سال کی اس وقت کی شرح کے مطابق حساب مختلف ہوگا۔ یہ رقم حقیقی اخراجات کے برابر بھی نہیں۔ یہ منظور شدہ سالانہ مالی حجم کا مجموعہ ہے۔
تعلیم کی صورتحال
اتنے بڑے مالی وسائل کے باوجود سندھ میں تعلیم کی صورتحال اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ پاکستان ادارۂ شماریات کے 2024-25 کے اعداد کے مطابق سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 39 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ لڑکیوں میں یہ شرح 44 فیصد ہے۔
سندھ کی مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہے۔ دیہی سندھ میں یہ شرح صرف 39 فیصد رہ جاتی ہے۔
سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی صورتحال بھی تشویش ناک ہے۔ سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے فراہم کردہ اعداد کے مطابق صوبے کے 40,978 سرکاری اسکولوں میں صرف 26,006 میں پینے کا پانی موجود ہے۔
صرف 13,013 اسکولوں میں بجلی، 17,136 میں بیت الخلا اور 20,913 اسکولوں میں چار دیواری موجود ہے۔
ان اعداد کے مطابق تقریباً 68 فیصد سرکاری اسکول بجلی، 58 فیصد بیت الخلا، 37 فیصد پینے کے پانی اور 49 فیصد چار دیواری سے محروم ہیں۔
صحت کے بنیادی اشاریے
صحت کے شعبے میں بھی صورتحال مکمل اطمینان بخش نہیں۔ 2024-25 کے سرکاری اعداد کے مطابق سندھ میں 12 سے 23 ماہ کے بچوں میں مکمل حفاظتی ٹیکوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کی شرح 66 فیصد تھی۔ پنجاب میں یہی شرح 79 فیصد رہی۔
دیہی سندھ میں یہ شرح مزید کم ہو کر 60 فیصد رہ جاتی ہے۔ اسی جائزے کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں میں گزشتہ 15 دن کے دوران اسہال کی شرح سندھ میں 13 فیصد تھی۔ پنجاب میں یہ شرح 9 فیصد رہی۔
عوام کو حساب چاہیے
اصل سوال کسی ایک سڑک، اسپتال یا عمارت کا نہیں۔ سوال 250 کھرب روپے کے مجموعی مالی حجم اور حاصل ہونے والے نتائج کے درمیان فاصلے کا ہے۔
سندھ حکومت کو 2008 سے اب تک محکمہ وار حساب دینا چاہیے۔ تعلیم، صحت، صاف پانی، نکاسی آب، بلدیات، سڑکوں، آبپاشی اور دیہی ترقی پر کتنی رقم مختص ہوئی؟ حقیقتاً کتنی رقم خرچ ہوئی؟ کتنی واپس گئی؟ اور اس خرچ کے نتیجے میں کون سا قابلِ پیمائش اشاریہ کتنا بہتر ہوا؟
تقریباً دو دہائیوں بعد بنیادی سوال یہی ہے کہ پیسہ کتنا آیا، کہاں خرچ ہوا اور سندھ کے عام شہری کی زندگی میں اس کے بدلے کیا بدلا؟
اگر ہزاروں ارب روپے کے باوجود بچے اسکول سے باہر ہیں، اسکولوں میں پانی اور بجلی کی سہولت نہیں، دیہی سندھ کی شرح خواندگی 39 فیصد ہے اور بنیادی صحت کے اشاریے کمزور ہیں تو سندھ کے عوام کو مالی اور کارکردگی کا مکمل حساب مانگنے کا حق ہے۔
دیکھیے: قانونی شکنجہ سخت، سہیل آفریدی کے وارنٹ جاری، پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھ گئیں