ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

سعودی عرب اور یمن نے بحیرہ احمر کی بحالی کیلئے حوثیوں کیخلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا حتمی خاکہ تیار کر لیا۔

October 4, 2026

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر واضح اکثریت کے ساتھ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب

یاد رہے کہ چند دن قبل عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلی کے عہدے سے فارغ کرتے ہوئے سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلی نامزد کیا تھا۔
سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر واضح اکثریت کے ساتھ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب

سہیل آفریدی کو سابق وزیر اعلی گنڈاپور سمیت 90 اراکین اسمبلی نے ووٹ دیا اور وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔

October 13, 2025

خیبرپختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے عمل کے بعد سہیل آفریدی صوبے کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔ اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا جبکہ اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

سہیل آفریدی کو سابق وزیر اعلی گنڈاپور سمیت 90 اراکین اسمبلی نے ووٹ دیا اور وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔

اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کل چار امیدوار میدان میں تھے — سہیل آفریدی (پی ٹی آئی)، مولانا لطف الرحمان (جے یو آئی ف)، سردار شاہ جہاں یوسف (مسلم لیگ ن) اور ارباب زرک خان (پیپلزپارٹی) — اور تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے تھے۔

اجلاس کے دوران سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے خطاب کیا اور کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے دور حکومت میں صوبے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ علی امین کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا اور اس صورت میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی ہے۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ عمل آئین کے مطابق جاری رکھا جائے گا اور ایوان کے آئینی طریقہ کار کے تحت نئے قائد ایوان کا اعلان کیا جائے گا۔ اس موقع پر اسمبلی کی گیلری میں شور شرابے پر اسپیکر نے حاضرین کو خاموش رہنے کی ہدایت بھی کی۔

دریں اثنا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کے استعفوں پر دستخطوں میں فرق کے اعتراض کے باعث انہیں 15 اکتوبر کو ذاتی طور پر گورنر ہاؤس طلب کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ چند دن قبل عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلی کے عہدے سے فارغ کرتے ہوئے سہیل آفریدی کو نیا وزیر اعلی نامزد کیا تھا۔

دیکھیں: تجزیہ کاروں اور سیاسی ماہرین نے گنڈاپور کی تبدیلی کی وجہ موروثی سیاست اور علیمہ خان کو قرار دے دیا

متعلقہ مضامین

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *