افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع شاخ میں طالبان کی جانب سے پوست کی کاشت ختم کرنے کی مہم کے خلاف شدید بدامنی پیدا ہوگئی ہے ۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخند زادہ کے ملک گیر پوست پر پابندی کے تحت جبری کاروائی کے بعد صورتحال بگڑ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق طالبان جنگجووں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم ازکم 15 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے ۔
بدخشاں میں طالبان کی پرتشدد کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنے ملک میں امن قائم رکھنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ وہ عوام سے بات کرنے کے بجائے زور زبردستی کا طریقہ اپنا رہی ہے۔
بدخشاں میں اٹھنے والی یہ بغاوت ایک خطرناک امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں معاشی مایوسی، جابرانہ طرز حکمرانی، اور طالبان کے اندر بڑھتی ہوئی نافرمانی سامنے آ رہی ہے۔
طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے علاقے میں امن لانے کے بجائے عوام کو مزید ناراض کر دیا ہے، اور خود طالبان کے اندر اختلافات کو بھی ظاہر کر دیا ہے، جس سے شمال مشرقی علاقوں کی سیکیورٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
بدخشاں میں عام شہریوں کا قتل ثابت کرتا ہے کہ افغان عوام کے لیے طالبان حکومت میں سکون یا امن کی کوئی امید نہیں، وہ آج بھی ظلم اور بےچینی کا شکار ہیں۔
افغانستان کے غیر محفوظ علاقوں میں طالبان کا کمزور کنٹرول پڑوسی ملکوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ یہاں سے شدت پسندی اور دہشت گردی دوسرے ملکوں تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔
یہ مسلسل بدامنی نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کر رہی ہے، بلکہ سرحد پار تعاون کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے اور ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے
دیکھیں: شمالی افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں خطے کے لیے سنگین خطرہ