سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے 15 خوارج کو ہلاک کر دیا ہے۔

August 9, 2026

لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کے مفت طبی کیمپ کے دوران نام نہاد امن کمیٹی کے منفی کردار نے ان کے ریاست مخالف پراپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

August 9, 2026

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان سے 74 ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا دعویٰ بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہوا ہے، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔

August 9, 2026

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کے معدنی شعبے میں غیر شفاف معاہدوں، مبینہ کرپشن اور اقربا پروری پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے۔

August 9, 2026

محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے سے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان شہریوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

August 9, 2026

برطانوی اخبار دی گارڈین اور زن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان کے 10 صوبوں میں خواتین کے قتل کے 231 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

August 9, 2026

افغان وزارتِ دفاع کا جعلی دعویٰ: پاکستان سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا بیانیہ بے نقاب

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان سے 74 ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا دعویٰ بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہوا ہے، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔
پاکستان سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا بیانیہ بے نقاب

طالبان حکومت کا پاکستان مخالف پراپیگنڈا بے نقاب۔ افغان فورسز کی جانب سے پاکستان سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعوے کے کوئی قابلِ تصدیق شواہد پیش نہ کیے جا سکے۔

August 9, 2026

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان سے 74 ہتھیار اسمگل کیے جانے کا دعویٰ ایک من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن بیانیہ ثابت ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت اس طرح کے من گھڑت الزامات کے ذریعے اپنی داخلی سیکیورٹی ناکامیوں سے دنیا کی توجہ ہٹا کر پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ ہتھیار طالبان سیکیورٹی فورسز نے اپنے ہی زیرِ انتظام علاقوں میں مختلف کارروائیوں اور عام شہریوں سے ضبط کیے ہیں، تاہم ان کے پاکستان سے اسمگل ہونے کے کوئی قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

عسکری ماہرین کے مطابق قبضے میں لیے گئے عسکری سازوسامان کا بڑا حصہ ان امریکی و نیٹو ہتھیاروں سے مطابقت رکھتا ہے جو 2021 میں انخلا کے وقت افغانستان میں ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ ضبط شدہ بعض ہتھیاروں کی ساخت اور نوعیت ایسی ہے جو پاکستان میں عام طور پر دستیاب ہی نہیں، جبکہ کچھ ہتھیار ماضی میں فتنۃ الخوارج کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر حملوں کے دوران لوٹے گئے تھے اور غیر قانونی طریقوں سے منتقل ہوئے۔

طالبان حکومت ایسے دعوؤں کے ذریعے دراصل بدخشاں اور دیگر صوبوں میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت اور مقامی شورش سے عوامی و عالمی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔

حالیہ دنوں میں افغانستان فریڈم فرنٹ اور سپاہیانِ میہن جیسے گروہوں نے طالبان کی چوکیوں پر حملے کر کے جانی نقصان پہنچانے اور عسکری سامان قبضے میں لینے کے دعوے کیے ہیں، جو طالبان کی حکومتی گرفت پر سوالیہ نشان ہیں۔

افغان حکومت کے اس الزام کے حق میں نہ تو کوئی معتبر ریکارڈ سامنے لایا گیا ہے اور نہ ہی سیریل نمبروں کا کوئی آزادانہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ ہتھیار پاکستان سے بھیجے گئے تھے۔

متعلقہ مضامین

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے 15 خوارج کو ہلاک کر دیا ہے۔

August 9, 2026

لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کے مفت طبی کیمپ کے دوران نام نہاد امن کمیٹی کے منفی کردار نے ان کے ریاست مخالف پراپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

August 9, 2026

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کے معدنی شعبے میں غیر شفاف معاہدوں، مبینہ کرپشن اور اقربا پروری پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے۔

August 9, 2026

محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے سے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان شہریوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

August 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *