افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان سے 74 ہتھیار اسمگل کیے جانے کا دعویٰ ایک من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن بیانیہ ثابت ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت اس طرح کے من گھڑت الزامات کے ذریعے اپنی داخلی سیکیورٹی ناکامیوں سے دنیا کی توجہ ہٹا کر پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ ہتھیار طالبان سیکیورٹی فورسز نے اپنے ہی زیرِ انتظام علاقوں میں مختلف کارروائیوں اور عام شہریوں سے ضبط کیے ہیں، تاہم ان کے پاکستان سے اسمگل ہونے کے کوئی قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
عسکری ماہرین کے مطابق قبضے میں لیے گئے عسکری سازوسامان کا بڑا حصہ ان امریکی و نیٹو ہتھیاروں سے مطابقت رکھتا ہے جو 2021 میں انخلا کے وقت افغانستان میں ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ ضبط شدہ بعض ہتھیاروں کی ساخت اور نوعیت ایسی ہے جو پاکستان میں عام طور پر دستیاب ہی نہیں، جبکہ کچھ ہتھیار ماضی میں فتنۃ الخوارج کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر حملوں کے دوران لوٹے گئے تھے اور غیر قانونی طریقوں سے منتقل ہوئے۔
طالبان حکومت ایسے دعوؤں کے ذریعے دراصل بدخشاں اور دیگر صوبوں میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت اور مقامی شورش سے عوامی و عالمی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔
حالیہ دنوں میں افغانستان فریڈم فرنٹ اور سپاہیانِ میہن جیسے گروہوں نے طالبان کی چوکیوں پر حملے کر کے جانی نقصان پہنچانے اور عسکری سامان قبضے میں لینے کے دعوے کیے ہیں، جو طالبان کی حکومتی گرفت پر سوالیہ نشان ہیں۔
افغان حکومت کے اس الزام کے حق میں نہ تو کوئی معتبر ریکارڈ سامنے لایا گیا ہے اور نہ ہی سیریل نمبروں کا کوئی آزادانہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ ہتھیار پاکستان سے بھیجے گئے تھے۔