قومی وسائل محدود ہونے کے باوجود حکومت نے وسیع مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں ایوان صدر میں اہم اجلاس ہوا جس میں صدر مملکت، چاروں وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔

April 4, 2026

اس ادائیگی سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر عارضی دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم یہ اقدام مالی نظم و ضبط اور بیرونی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی کے حوالے سے مثبت اشارہ بھی ہے۔

April 3, 2026

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم حکام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

April 3, 2026

خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان اور چین کے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جسے خطے میں استحکام کیلئے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 3, 2026

کویت کا تقریباً 90 فیصد پینے کا پانی ڈی سیلینیشن پلانٹس سے حاصل ہوتا ہے، جس کے باعث اس حملے کو انتہائی حساس اور خطرناک پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 3, 2026

حکام کے مطابق یہ پیکج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اقدامات کا حصہ ہے، جس کا مقصد کمزور طبقات کو تحفظ دینا، روزگار کو سہارا دینا اور معیشت کو متوازن رکھنا ہے۔

April 3, 2026

افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کی مالی معاونت کے لیے مقامی عمائدین پر دباؤ، گھر گھر جا کر فنڈز کی وصولی

آماج نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے ‘پاکستان میں جہاد’ کے نام پر فنڈز جمع کرنے کی مہم میں تیزی پیدا کر دی ہے
آماج نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے 'پاکستان میں جہاد' کے نام پر فنڈز جمع کرنے کی مہم میں تیزی پیدا کر دی ہے

شمالی افغانستان میں طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے لیے گھر گھر چندہ مہم کا انکشاف۔ مقامی آبادی پر مالی تعاون کے لیے دباؤ

April 3, 2026

افغانستان کے معتبر میڈیا نیٹ ورک ‘آماج نیوز’ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی مالی پشت پناہی کے لیے ایک باقاعدہ اور منظم مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان اس مہم کو “پاکستان میں ٹی ٹی پی کا جہاد” قرار دے کر فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے یہ مہم صرف مخصوص حلقوں تک محدود تھی، تاہم اب طالبان نے اسے وسعت دیتے ہوئے گھر گھر جا کر چندہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔

مقامی آبادی پر دباؤ

آماج نیوز نے شمالی افغانستان کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے عام شہریوں اور تاجروں پر مالی تعاون کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی قبائلی عمائدین اور بااثر شخصیات کو خصوصی ٹاسک دیے گئے ہیں کہ وہ اپنی اپنی برادریوں سے رقم جمع کر کے طالبان کے متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جبری وصولی کی وجہ سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس اور اضطراب پایا جاتا ہے۔

تنخواہوں کی عدم ادائیگی

آماج نیوز کی اس رپورٹ میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فنڈز جمع کرنے کی اس جارحانہ مہم کا وقت انتہائی اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی وزارتِ دفاع کے تحت کام کرنے والے ہزاروں جنگجوؤں کو گزشتہ 45 روز سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جا سکی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف طالبان اپنی صفوں میں مالی عدم استحکام کا شکار ہیں اور دوسری طرف ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کی سرپرستی جاری رکھنے کے لیے اب افغان عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو کہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک تشویشناک علامت ہے۔

دیکھیے: اسرائیل کا اے آئی جنگی نظام بے نقاب، ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی تفصیلات سامنے آگئیں

متعلقہ مضامین

قومی وسائل محدود ہونے کے باوجود حکومت نے وسیع مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں ایوان صدر میں اہم اجلاس ہوا جس میں صدر مملکت، چاروں وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔

April 4, 2026

اس ادائیگی سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر عارضی دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم یہ اقدام مالی نظم و ضبط اور بیرونی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی کے حوالے سے مثبت اشارہ بھی ہے۔

April 3, 2026

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم حکام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

April 3, 2026

خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان اور چین کے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جسے خطے میں استحکام کیلئے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *