افغانستان کے معتبر میڈیا نیٹ ورک ‘آماج نیوز’ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی مالی پشت پناہی کے لیے ایک باقاعدہ اور منظم مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان اس مہم کو “پاکستان میں ٹی ٹی پی کا جہاد” قرار دے کر فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے یہ مہم صرف مخصوص حلقوں تک محدود تھی، تاہم اب طالبان نے اسے وسعت دیتے ہوئے گھر گھر جا کر چندہ جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔
مقامی آبادی پر دباؤ
آماج نیوز نے شمالی افغانستان کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان کی جانب سے عام شہریوں اور تاجروں پر مالی تعاون کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی قبائلی عمائدین اور بااثر شخصیات کو خصوصی ٹاسک دیے گئے ہیں کہ وہ اپنی اپنی برادریوں سے رقم جمع کر کے طالبان کے متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جبری وصولی کی وجہ سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس اور اضطراب پایا جاتا ہے۔
#Aamaj_Exclusive
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) April 3, 2026
“Jihad in Pakistan”: Taliban Intensify Fundraising Campaign in Northern Afghanistan for Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP)
Sources in northern Afghanistan told Aamaj News that the Taliban have escalated efforts to raise funds for what they describe as the “TTP… pic.twitter.com/a0N4W9rujm
تنخواہوں کی عدم ادائیگی
آماج نیوز کی اس رپورٹ میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فنڈز جمع کرنے کی اس جارحانہ مہم کا وقت انتہائی اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی وزارتِ دفاع کے تحت کام کرنے والے ہزاروں جنگجوؤں کو گزشتہ 45 روز سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جا سکی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف طالبان اپنی صفوں میں مالی عدم استحکام کا شکار ہیں اور دوسری طرف ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کی سرپرستی جاری رکھنے کے لیے اب افغان عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو کہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک تشویشناک علامت ہے۔
دیکھیے: اسرائیل کا اے آئی جنگی نظام بے نقاب، ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی تفصیلات سامنے آگئیں