ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کے امیگریشن کیسز کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان ممالک کو حساس ممالک قرار دیتے ہوئے واضح کہا ہے کہ موجودہ ڈیٹا، سیکیورٹی ریکارڈ اور حالیہ نئی شرائط کے تحت دوبارہ دیکھا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ پالیسی کے تحت گرین کارڈ ہولڈرز کے خلاف کارروائی محض سنگین جرم یا دہشت گردانہ سرگرمیوں کی صورت میں کی جاتی تھی لیکن حالیہ نئے فیصلے سے انکی رہائشی حیثیت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ اقدام سے امریکا بھر میں مقیم لاکھوں تارکین وطن میں بے چینی پھیل گئی ہے بالخصوص ان ممالک کے شہریوں میں جو مذکورہ فہرست میں شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان 19 ممالک کے قریباً 43 لاکھ شہری فی الحال امریکہ میں مقیم ہیں۔
ممالک کی فہرست
ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ فیصلے کے مطابق تمام ممالک کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے نمبر1؛ مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ سخت نگرانی والے ممالک میں فغانستان، برما، چاڈ، جمہوریہ کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ جبکہ جزوی پابندی اور نظرثانی والے ممالک میں برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان، وینیزویلا
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظآمیہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ نیز امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان موجودہ فہرست میں شامل نہیں لہٰذا پاکستانی نژاد گرین کارڈ ہولڈرز مذکورہ تفتیشی دائرہ کار سے باہر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم امریکی امیگریشن پالیسی میں مزید سخت اقدامات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جبکہ متاثرہ ممالک کے شہری اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔