پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی، سفارتی اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ دفاعی صنعت میں اشتراک اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے۔

January 20, 2026

چمن کے قریب افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافہ، پاک فوج نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا

January 20, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو ملکی سلامتی کے لیے ’فاش غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہی فیصلہ ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی بنیادی وجہ بنا۔ انہوں نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی پر افغان حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا

January 20, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قیامِ امن کو “مقدس فریضہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج ہمیشہ بہادر اور قابلِ فخر پولیس کے ساتھ کھڑی رہیں گی اور عوامی پولیس ملکی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے

January 20, 2026

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے مطابق صوبے میں گمشدہ افراد کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہو چکا ہے اور گڈ گورننس و میرٹ کے ذریعے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے

January 20, 2026

امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر منشیات سمگل کرنے والے مشکوک گروہ کو روکنے پر کشیدگی اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا

January 20, 2026

ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا فیصلہ: 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کے کیسز کا ازسرِنو جائزہ

ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کے امیگریشن کیسز کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے جن مہیں افغانستان، ایران سرفہرست ہیں جبکہ پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کے امیگریشن کیسز کا ازسرِنو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان اس فہرست میں پاکستان شامل نہیں ہے

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدام مستقبل میں امیگریشن پالیسی میں سختیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے

November 28, 2025

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کے امیگریشن کیسز کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان ممالک کو حساس ممالک قرار دیتے ہوئے واضح کہا ہے کہ موجودہ ڈیٹا، سیکیورٹی ریکارڈ اور حالیہ نئی شرائط کے تحت دوبارہ دیکھا جائے گا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ پالیسی کے تحت گرین کارڈ ہولڈرز کے خلاف کارروائی محض سنگین جرم یا دہشت گردانہ سرگرمیوں کی صورت میں کی جاتی تھی لیکن حالیہ نئے فیصلے سے انکی رہائشی حیثیت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ اقدام سے امریکا بھر میں مقیم لاکھوں تارکین وطن میں بے چینی پھیل گئی ہے بالخصوص ان ممالک کے شہریوں میں جو مذکورہ فہرست میں شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان 19 ممالک کے قریباً 43 لاکھ شہری فی الحال امریکہ میں مقیم ہیں۔

ممالک کی فہرست

ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ فیصلے کے مطابق تمام ممالک کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے نمبر1؛ مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ سخت نگرانی والے ممالک میں فغانستان، برما، چاڈ، جمہوریہ کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ جبکہ جزوی پابندی اور نظرثانی والے ممالک میں برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان، وینیزویلا

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظآمیہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ نیز امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان موجودہ فہرست میں شامل نہیں لہٰذا پاکستانی نژاد گرین کارڈ ہولڈرز مذکورہ تفتیشی دائرہ کار سے باہر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم امریکی امیگریشن پالیسی میں مزید سخت اقدامات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جبکہ متاثرہ ممالک کے شہری اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

متعلقہ مضامین

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی، سفارتی اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ ترکی کے ساتھ دفاعی صنعت میں اشتراک اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے۔

January 20, 2026

چمن کے قریب افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافہ، پاک فوج نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا

January 20, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کو ملکی سلامتی کے لیے ’فاش غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہی فیصلہ ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی بنیادی وجہ بنا۔ انہوں نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی پر افغان حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا

January 20, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قیامِ امن کو “مقدس فریضہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج ہمیشہ بہادر اور قابلِ فخر پولیس کے ساتھ کھڑی رہیں گی اور عوامی پولیس ملکی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے

January 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *