امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو چینی ساختہ فضائی دفاعی ہتھیاروں کی مبینہ فراہمی سے متعلق پاکستان اور چین کو جوڑنے والی من گھڑت کوششوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ مWقف پاکستان کی شفاف سفارتی پالیسی اور خطے میں اس کے مثبت اور غیر جانبدارانہ کردار کی بڑی توثیق ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کی جانب سے پاکستان اور چین پر الزام تراشی پر مبنی سوال اٹھایا گیا۔ اس سوال میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کو چینی ساختہ فضائی دفاعی میزائل نظام کی کھیپ پہنچائی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں ذاتی طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو ایسے کسی ہتھیار کی فراہمی میں شامل نہیں۔
پاکستان پہلے ہی ان تمام قیاس آرائیوں اور بے بنیاد دعوؤں کی مکمل تردید کر چکا ہے کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کو اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح اور شفاف رہا ہے، اور وہ خطے میں کسی قسم کی کشیدگی کا حصہ بننے کے بجائے صرف پرامن حل کا حامی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، چین اور ترکیہ کے خلاف یہ غلط معلومات اور من گھڑت رپورٹس دراصل بھارت اور اسرائیل نواز معلوماتی نیٹ ورکس کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان سازشوں کا مقصد پاکستان کی کامیابی سے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانا اور خطے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔
پاکستان خطے میں پائیدار امن، کشیدگی کے خاتمے اور فریقین کے درمیان بامقصد مذاکرات کے لیے مخلص ترین کردار ادا کر رہا ہے۔
اس بات کا واضح ثبوت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کی مسلسل تعریف اور پاکستان کے غیر جانبدار ثالثی کے کردار کا اعتراف ہے۔ پاکستان آئندہ بھی خطے میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔