دونوں ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت کاری کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے ذریعے ایران سے رابطے میں ہیں۔

April 7, 2026

ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کو غیر ضروری کشیدگی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات پرامن ذرائع سے تنازع کے حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

April 7, 2026

ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو متعدد ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں۔ 21 مارچ کو انہوں نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، بصورت دیگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔

April 7, 2026

سعودی عرب کے صنعتی مرکز جبیل پر ایرانی حملہ پاکستان کی ثالثی کوششوں اور علاقائی استحکام کے خلاف ایک بڑی سازش ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے کے تحت یہ حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہے، جس کے بعد امن عمل کے سبوتاژ ہونے کا سنگین خدشہ پیدا ہو گیا ہے

April 7, 2026

اقوام متحدہ کے ادارے او سی ایچ اے کی رپورٹ نے انسانی ہمدردی کے نام پر طالبان کے انتہا پسند بیانیے کو فروغ دے کر زمینی حقائق کو مسخ کر دیا ہے۔ رپورٹ میں شہری آبادی میں چھپے دہشت گردانہ ٹھکانوں اور ‘انسانی ڈھال’ کے استعمال کو نظر انداز کرنا خود اقوام متحدہ کے اپنے سکیورٹی جائزوں کی نفی ہے

April 7, 2026

ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کے 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں افغانستان کے صوبہ لوگر کا رہائشی قاری عزیر بھی شامل ہے

April 7, 2026

ڈیل نہ ہوئی تو آج رات ایران کی تہذیب صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا، ٹرمپ کی ایران کو فائنل وارننگ

ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو متعدد ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں۔ 21 مارچ کو انہوں نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، بصورت دیگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔
ٹرمپ کی نئی بکواس

اپریل کو ٹرمپ نے اپنی دھمکی کو دہراتے ہوئے کہا کہ “منگل کا دن پاور پلانٹ اور پلوں کا دن ہوگا”، اور شام 8 بجے (مشرقی وقت) کو ممکنہ کارروائی کا وقت مقرر کیا۔

April 7, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ “آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے”، جبکہ انہوں نے ممکنہ رجیم تبدیلی اور بڑے حملوں کا بھی عندیہ دیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ “خونریزی، بدعنوانی اور اموات کی 47 سالہ تاریخ ختم ہونے جا رہی ہے”، اور یہ دنیا کی تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں “مکمل رجیم تبدیل” ہو چکا ہے اور اب وہاں زیادہ “ذہین اور کم انتہا پسند” عناصر غالب آ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے مگر “شاید ایسا ہو جائے”۔

امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ ایران کا ردعمل آج رات تک متوقع ہے، جبکہ ان کی تازہ ڈیڈ لائن پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بجے ختم ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو متعدد ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں۔ 21 مارچ کو انہوں نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، بصورت دیگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔

بعد ازاں امریکہ نے مختلف مواقع پر حملوں کو مؤخر کیا، پہلے 5 دن اور پھر 10 دن کی مہلت دی گئی، جبکہ 3 اپریل کو ایک بار پھر 48 گھنٹوں کی نئی وارننگ جاری کی گئی۔

5 اپریل کو ٹرمپ نے اپنی دھمکی کو دہراتے ہوئے کہا کہ “منگل کا دن پاور پلانٹ اور پلوں کا دن ہوگا”، اور شام 8 بجے (مشرقی وقت) کو ممکنہ کارروائی کا وقت مقرر کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے متضاد اور مسلسل بدلتے بیانات خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور توانائی مارکیٹ کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

دیکھئیے:مشرقِ وسطیٰ میں اہم سفارتی پیش رفت، پاکستان کی ثالثی میں معاہدہ طے، جلد اعلان متوقع

متعلقہ مضامین

دونوں ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت کاری کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے ذریعے ایران سے رابطے میں ہیں۔

April 7, 2026

ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کو غیر ضروری کشیدگی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات پرامن ذرائع سے تنازع کے حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

April 7, 2026

سعودی عرب کے صنعتی مرکز جبیل پر ایرانی حملہ پاکستان کی ثالثی کوششوں اور علاقائی استحکام کے خلاف ایک بڑی سازش ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے کے تحت یہ حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہے، جس کے بعد امن عمل کے سبوتاژ ہونے کا سنگین خدشہ پیدا ہو گیا ہے

April 7, 2026

اقوام متحدہ کے ادارے او سی ایچ اے کی رپورٹ نے انسانی ہمدردی کے نام پر طالبان کے انتہا پسند بیانیے کو فروغ دے کر زمینی حقائق کو مسخ کر دیا ہے۔ رپورٹ میں شہری آبادی میں چھپے دہشت گردانہ ٹھکانوں اور ‘انسانی ڈھال’ کے استعمال کو نظر انداز کرنا خود اقوام متحدہ کے اپنے سکیورٹی جائزوں کی نفی ہے

April 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *