امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک نئے اور بڑے فوجی آپریشن کی دھمکی دی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کو ابھی تک خاطر خواہ نقصان نہیں پہنچایا گیا اور وہ ملک میں بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ زیرِ غور نئی کارروائی آپریشن ایپک فیوری کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور تمام عسکری آپشنز زیرِ غور ہیں۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل ان حملوں میں شریک ہوا تو اس کے بھی نتائج نکلیں گے، جس سے غالباً ان کا اشارہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی طرف تھا۔
ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل محض دو منٹ میں اس جنگ میں شامل ہو سکتا ہے، مگر امریکا کو اس کارروائی کے لیے کسی کی مدد درکار نہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکام مذاکرات کے خواہش مند ضرور ہیں، لیکن فی الحال کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں۔ اس سے قبل بھی امریکی صدر یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکا جواباً ایران کے کسی پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا۔
خطے میں کشیدگی کی ایک اور وجہ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملہ بھی بنا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی سزا دینے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے کیا گیا کوئی بھی نیا حملہ براہِ راست ایران کی کارروائی تصور کیا جائے گا۔