یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

February 28, 2026

پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

February 27, 2026

ذبیح اللہ مجاہد نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسلامی امارت خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی داخلی جنگ اس کا اپنا معاملہ ہے جسے افغانستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

February 27, 2026

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔

February 27, 2026

پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں لغمان، کنڑ، پکتیا اور پکتیکا کے ان علاقوں میں طالبان کے عسکری مراکز اور بارڈر بٹالینز پر بمباری کی ہے، جس سے سرحدی صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے

February 27, 2026

ملک کی معروف مذہبی سیاسی جماعت نے فتنۃ الخوارج کے خلاف ‘آپریشن غضب للحق’ کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان، اسرائیل اور بھارت کے ایما پر پاکستان میں مداخلت کر رہا ہے

February 27, 2026

ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا حکومتِ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف باقاعدہ آپریشنز شروع کرنے کا اعلان

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا حکومتِ پاکستان کے خلاف باقاعدہ آپریشنز شروع کرنے کا اعلان

کالعدم جماعت الاحرار اور بعض دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے بھی مبینہ طور پر اسی نوعیت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس سے خطرات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

February 28, 2026

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے اپنے جنگجوؤں کو حکومتِ پاکستان کے خلاف باقاعدہ اور منظم آپریشنز شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیغام تنظیم کے میڈیا ونگ کے ذریعے مختلف کمانڈرز تک پہنچایا گیا، جس میں کارروائیوں میں شدت لانے پر زور دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ادھر کالعدم جماعت الاحرار اور بعض دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے بھی مبینہ طور پر اسی نوعیت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس سے خطرات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان (ٹی ٹی اے) کے درمیان تعلق اب محض الزام یا قیاس آرائی نہیں رہا بلکہ بیانات اور زمینی حقائق اسے واضح بنا رہے ہیں۔ جب ایک فریق کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور دوسرا فریق کھل کر اس کے حق میں بیانات اور صف بندی کرتا ہے تو اس سے عملی اور نظریاتی ہم آہنگی نمایاں ہو جاتی ہے۔ نور ولی محسود، حافظ گل بہادر گروپ اور اتحاد المجاہدین کی جانب سے “تحفظِ امارتِ اسلامی” کے نام پر پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان اس تعلق کو مزید واضح کرتا ہے، جو محض آزاد عسکریت نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظریاتی وابستگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

2021 کے بعد پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے متعدد کے تانے بانے مشرقی افغان صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست سے جوڑے جاتے ہیں۔ یہ علاقے جغرافیائی طور پر سرحدی پٹی میں واقع ہیں اور مبصرین کے مطابق بطور آپریشنل گہرائی استعمال ہو سکتے ہیں۔ روسی اور اقوام متحدہ سے منسلک بعض اندازوں میں بھی ہزاروں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی موجودگی جنوب مشرقی و مشرقی افغانستان میں بتائی گئی ہے، جس سے سرحد پار کارروائیوں کی بحث کو مزید تقویت ملتی ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

February 27, 2026

ذبیح اللہ مجاہد نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسلامی امارت خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی داخلی جنگ اس کا اپنا معاملہ ہے جسے افغانستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

February 27, 2026

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر جبکہ قندھار میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بھی مخصوص اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق “کابل کی فضا میں رات کو ہونے والے مناظر پوری دنیا نے دیکھے”۔

February 27, 2026

پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں لغمان، کنڑ، پکتیا اور پکتیکا کے ان علاقوں میں طالبان کے عسکری مراکز اور بارڈر بٹالینز پر بمباری کی ہے، جس سے سرحدی صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے

February 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *