اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم اور عالمی ادارہ برائے مہاجرت نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں جاری بحرانوں کے باعث افغان شہریوں کو انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور مختلف قسم کے استحصال کے شدید خطرات کا سامنا ہے۔
انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ مشترکہ بیان میں دونوں عالمی اداروں نے واضح کیا کہ معاشی، انسانی اور سماجی بحرانوں نے جرائم پیشہ لوگوں کے لیے افغان شہریوں کے استحصال کو آسان بنا دیا ہے۔
بنیادی وجوہات
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پڑوسی ممالک سے افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر اور جبری واپسی، افیون پر مبنی معیشت کے خاتمے اور انسانی امداد میں شدید کمی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اس کے علاوہ قدرتی آفات اور خواتین و بچیوں کے حقوق پر عائد پابندیاں بھی انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔
وطن واپس آنے والے
حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور دیگر ممالک سے واپس آنے والے افغان مہاجرین انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ محض 11 فیصد افراد کے پاس مستقل روزگار ہے، جبکہ نصف سے زائد آبادی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہے۔
شدید معاشی دباؤ کی وجہ سے خاندان مقروض ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اینٹوں کے بھٹوں، کان کنی اور زریعہ شعبے میں جبری مشقت، وقت سے پہلے جبری شادیوں اور اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
فوری اقدامات کی اپیل
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کے نمائندے پولیک اوک سری نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے متاثرین کے تحفظ اور اس جرم کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب آئی او ایم کی سربراہ میہیونگ پارک کا کہنا تھا کہ وطن واپس آنے والوں کا بوجھ مقامی وسائل سے باہر ہو چکا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر عالمی برادری نے فوری مالی امداد اور روزگار کے مواقع نہ دیے تو افغان شہری ایک بار پھر خطرناک اور غیر قانونی ہجرت پر مجبور ہوں گے۔