افغانستان کے دارالحکومت کابل سے موصول ہونے والی انتہائی افسوسناک اور تشویشناک اطلاعات کے مطابق اقوامِ متحدہ کی ایک خاتون ملازمہ فرشتہ عمادی کو نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ کابل شہر کے وسط میں پیش آیا، جہاں حملہ آور واردات کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اگرچہ تاحال اس بزدلانہ حملے کی اصل نوعیت اور ممکنہ محرکات کے بارے میں افغان حکام کی جانب سے کوئی باقاعدہ سرکاری وضاحت یا پریس ریلیز سامنے نہیں آئی ہے، تاہم متعلقہ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس پر تصدیق کی مہر
سیکیورٹی اور انسانی حقوق کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کابل کا یہ حالیہ واقعہ ان بین الاقوامی اور عالمی رپورٹس پر ایک بار پھر مہرِ تصدیق ثبت کر رہا ہے، جن میں مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ افغان سرزمین اس وقت خواتین کے لیے کسی مصیبت زدہ اور کڑی آزمائش والی جگہ سے کم نہیں ہے۔ فرشتہ عمادی کا دن دیہاڑے قتل ان تمام دعوؤں کی نفی کرتا ہے جن میں ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال کو مثالی قرار دیا جاتا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سنگین واقعہ واضح اشارہ ہے کہ افغانستان تاحال ایک پُرامن جگہ میں تبدیل نہیں ہو سکا، جہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کا عملہ بھی محفوظ نہیں ہے۔
عام افغان خواتین کا تحفظ؟
اس ہولناک ٹارگٹ کلنگ نے ملک کے اندر کام کرنے والی خواتین اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس المیے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر دارالحکومت کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے علاقوں میں اقوامِ متحدہ جیسے اعلیٰ ترین عالمی ادارے سے منسلک بااثر اور فعال خواتین کو اس طرح بے دردی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پھر ان حالات میں افغانستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والی عام اور بے سہارا خواتین کی جان و مال کا کیا حال ہوگا اور وہ کس طرح محفوظ رہ سکیں گی؟ یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جو کابل میں خواتین کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے حوالے سے مسلسل مطالبات کر رہی ہے۔