اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں طالبان کے پانچ سالہ دورِ اقتدار کا احاطہ کیا گیا۔ اجلاس میں دہشت گردی، انسانی حقوق اور علاقائی سیکیورٹی کے معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
عالمی برادری نے واضح کیا کہ طالبان کے استحکام کے دعوے اور زمینی حقائق میں کھلا تضاد ہے۔ افغان سرزمین پر موجود شدت پسند گروہ عالمی امن کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
امریکی سفیر کی تنقید
امریکی سفیر مائیک والٹز نے طالبان رجیم کی پالیسیوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کابل انتظامیہ دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 22 لاکھ افغان لڑکیاں تاحال تعلیم سے محروم ہیں۔ انہوں نے غیر ملکیوں کو دباؤ کے لیے قید رکھنے کا ذکر بھی کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے طالبان حکومت کو ناجائز حراست کی سرپرست ریاست نامزد کیا ہے۔
پاکستان کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے دہشت گردی کو بحران کی بنیادی جڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان شدت پسند تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔
پاکستانی مندوب نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ اور داعش خراسان کے طالبان سے گٹھ جوڑ کی نشاندہی کی۔ انہوں نے غیر ملکی افواج کے چھوڑے گئے اسلحے اور ڈرونز کے استعمال پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔
برطانیہ، فرانس، ڈنمارک، روس اور چین کے نمائندوں نے بھی دہشت گردی پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے طالبان رجیم سے شدت پسندوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا۔
روسی نمائندے نے شام اور عراق سے آئے غیر ملکی جنگجوؤں کا معاملہ اٹھایا۔ چینی نمائندے نے تمام کالعدم گروہوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی پر زور دیا۔
انتظامی ناکامی اور خطے پر اثرات
یوناما کی نائب نمائندہ جیورجیٹ گگنن نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کی اصل وجہ ہے۔
سابق افغان مندوب نصیر احمد فائق نے واضح کیا کہ زمین پر محض زبردستی کا قبضہ سیاسی جواز کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ کونسل نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ افغان سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
دیکھیے: افغانستان سے دہشتگردی پر دفاعی کارروائی کریں گے: عاصم افتخار