افغانستان میں طالبان نے اختیارات کی تقسیم کا اصول ختم کر کے تفتیش اور فیصلوں کو ایک ہی دائرہ اختیار میں ضم کر دیا ہے۔ خواتین پراسیکیوٹرز کی برطرفی، جیلوں میں قید خواتین میں 435 فیصد اضافہ اور قانون دانوں کے قتل نے افغان عدلیہ کو مکمل مفلوج کر دیا ہے۔

May 30, 2026

سابق افغان سیاست دان روہب اللہ جان نے امریکی امداد کی معطلی پر افغان عوام کو طالبان کے جبر کے خلاف پُرامن آواز اٹھانے کی تلقین کی ہے۔

May 30, 2026

بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان سے مکمل اور حتمی لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے.

May 30, 2026

طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید کے خطبے میں عوام پر اندھی اطاعت لازم قرار دے دی ہے، جسے ماہرین نے اندرونی اختلافات اور اقتدار بچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

May 30, 2026

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مابین واشنگٹن میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں تجارت، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی سمیت دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

May 30, 2026

حکومت نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22، 22 روپے جبکہ مٹی کے تیل میں 41 روپے 44 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کر دی ہے۔

May 30, 2026

پاکستان، چین اور افغانستان کا ارمچی میں اہم مشاورتی دور: علاقائی امن کے لیے مؤثر اور تعمیری اقدامات پر اتفاق

ارمچی میں چین، پاکستان اور افغانستان کے مابین ہفتہ بھر جاری رہنے والے مذاکرات میں ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم تجاویز پر اتفاق کر لیا گیا ہے، جو علاقائی امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے
ارومچی میں چین، پاکستان اور افغانستان کے مابین ہفتہ بھر جاری رہنے والے مذاکرات میں ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم تجاویز پر اتفاق کر لیا گیا ہے، جو علاقائی امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے

پاکستان، چین اور افغانستان کے مابین ارومچی میں سہ فریقی مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے۔ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری یقین دہانی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ چین نے سرحدی استحکام کے لیے فعال ثالثی کردار ادا کیا

April 10, 2026

پاکستان اور افغانستان کے مابین علاقائی سلامتی، سرحدی استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے چین کے شہر ارمچی میں ہفتہ بھر جاری رہنے والے غیر رسمی مذاکرات کا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔ یکم سے 7 اپریل تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں تینوں ممالک کے وزارت خارجہ، دفاع اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی۔ افغان امور کے ماہر اور متعلقہ چینی عہدیدار ڈاکٹر یو کے مطابق مذکورہ مذاکرات انتہائی خوشگوار اور مخلصانہ ماحول میں ہوئی، جس کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار قیامِ امن کے لیے مؤثر نتائج اور عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق چین کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان نے سکیورٹی چیلنجز پر اپنا دوٹوک اور واضح مؤقف پیش کیا۔ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے حوالے سے تحریری یقین دہانی فراہم کرے، جس کے تحت ٹی ٹی پی کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے، پاک افغان سرحد سے دور منتقل کیا جائے اور ان کی حیثیت کو غیر جنگجو تک محدود رکھا جائے۔ مذاکرات کے دوران چینی ثالثوں نے افغان فریق کے بعض مطالبات کو “غیر معقول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، تاہم اس امر پر مکمل اتفاق پایا گیا کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت میں کسی تیسرے ملک یا گروہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف پراکسی کاروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

کشیدگی کا خاتمہ اور باہمی اعتماد

دو روز قبل چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں پریس کانفرنس کے دوران ارومچی مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے گزشتہ اکتوبر کے تنازع سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے جامع حل پر اتفاق کر لیا ہے۔ فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل میں ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے سرحدی امور میں پیچیدگی پیدا ہو یا دوطرفہ تعلقات متاثر ہوں۔ مذاکراتی وفود اب اپنے اپنے دارالحکومتوں کو روانہ ہو چکے ہیں، جہاں وہ اپنی اعلیٰ قیادت کو ارومچی میں ہونے والی تجاویز اور طے پانے والے مندرجات پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

مستقبل کا منظرنامہ

دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کو میڈیا کی نظروں سے دور رکھنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ تمام فریقین اب سنجیدہ اور نتیجہ خیز سفارت کاری کے خواہاں ہیں۔ کابل کے رویے میں حالیہ لچک، مثبت برتاؤ اور افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے بیانات کو ایک مثبت تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تمام تر عمل کی حقیقی کامیابی کا دارومدار ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کے خلاف افغان حکومت کے عملی اور زمین پر نظر آنے والے اقدامات پر ہے۔

ارمچی میں ہونے والی یہ پیش رفت پاک افغان تعلقات میں طویل عرصے سے موجود جمود کو توڑنے اور سرحدی سکیورٹی کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اس عمل میں چین کا فعال اور منصفانہ ثالثی کردار خطے کے استحکام کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

دیکھیے: بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کی افغانستان میں گورنر ہرات سے ملاقات، بی ایل اے کے افغانستان میں ٹھکانے سامنے آگئے

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان نے اختیارات کی تقسیم کا اصول ختم کر کے تفتیش اور فیصلوں کو ایک ہی دائرہ اختیار میں ضم کر دیا ہے۔ خواتین پراسیکیوٹرز کی برطرفی، جیلوں میں قید خواتین میں 435 فیصد اضافہ اور قانون دانوں کے قتل نے افغان عدلیہ کو مکمل مفلوج کر دیا ہے۔

May 30, 2026

سابق افغان سیاست دان روہب اللہ جان نے امریکی امداد کی معطلی پر افغان عوام کو طالبان کے جبر کے خلاف پُرامن آواز اٹھانے کی تلقین کی ہے۔

May 30, 2026

بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان سے مکمل اور حتمی لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے.

May 30, 2026

طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید کے خطبے میں عوام پر اندھی اطاعت لازم قرار دے دی ہے، جسے ماہرین نے اندرونی اختلافات اور اقتدار بچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

May 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *