واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جو غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق شامل ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے معاہدے کی ساکھ اور امن کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

February 1, 2026

عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔

February 1, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ڈیجیٹل پوسٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور دہشت گرد بیانیے کو فروغ دینے پر دی گئیں، جبکہ قانون کے مطابق اپیل کا مکمل حق بھی دستیاب ہے۔ ان کے مطابق اس قانونی عمل کو جبر یا اظہارِ رائے کی پابندی قرار دینا حقائق کے منافی ہے، بلکہ یہ ملکی قانون کا نفاذ ہے۔

February 1, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ ایک حساس سرحدی علاقے میں ہوئی، تاہم تاحال نہ طالبان حکام اور نہ ہی پاکستانی حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ واقعے کی نوعیت اور نقصانات سے متعلق تفصیلات بھی سامنے نہیں آ سکیں۔

February 1, 2026

بی ایل اے کے حملوں میں مزدوروں، مسافروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ گروہ کسی عوامی مقصد یا سیاسی ایجنڈے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کو “سیاسی مزاحمت” کا رنگ دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

February 1, 2026

آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے

January 31, 2026

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد قرار دے دیا

دفترِِ خارجہ کے مطابق بلوچ لبریشن نے گزشتہ سال کراچی ایئرپورٹ کے قریب خودکش دھماکوں اور گوادر پورٹ کمپلیکس پر بھی حملے کا اعتراف کیا تھا
دفترِِ خارجہ کے مطابق بلوچ لبریشن نے گزشتہ سال کراچی ایئرپورٹ کے قریب خودکش دھماکوں اور گوادر پورٹ کمپلیکس پر بھی حملے کا اعتراف کیا تھ

سرفراز بگٹی نے اس موقع پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا پاکستان کا مؤقف امریکی انتظامیہ تک پہنچانے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔

August 12, 2025

واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔

دفترِِ خارجہ کے مطابق بلوچ لبریشن نے گزشتہ سال کراچی ایئرپورٹ کے قریب خودکش دھماکوں اور گوادر پورٹ کمپلیکس پر بھی حملے کا اعتراف کیا تھا۔

رواں سال میں بی ایل اے نے جعفر ایکسپریس کو اغوا، 31 شہریوں اور سیکیورٹی اہل کاروں کو قتل کرنے کی ذمے داری قبول کی۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے پر اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سرفراز بگٹی نے اس موقع پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا پاکستان کا مؤقف امریکی انتظامیہ تک پہنچانے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے لسانیت و قومیت کے نام پر بے گناہ لوگوں کا خون بہایا، دنیا کو دہشت گردی کی اس لعنت کے خاتمے کے لیے متحد ہونا ہو

دیکھیں: باجوڑ میں ایک بار پھر تین روزہ کرفیو نافذ؛ نوٹیفیکیشن جاری

متعلقہ مضامین

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جو غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق شامل ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے معاہدے کی ساکھ اور امن کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

February 1, 2026

عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔

February 1, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں ڈیجیٹل پوسٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور دہشت گرد بیانیے کو فروغ دینے پر دی گئیں، جبکہ قانون کے مطابق اپیل کا مکمل حق بھی دستیاب ہے۔ ان کے مطابق اس قانونی عمل کو جبر یا اظہارِ رائے کی پابندی قرار دینا حقائق کے منافی ہے، بلکہ یہ ملکی قانون کا نفاذ ہے۔

February 1, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ ایک حساس سرحدی علاقے میں ہوئی، تاہم تاحال نہ طالبان حکام اور نہ ہی پاکستانی حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ واقعے کی نوعیت اور نقصانات سے متعلق تفصیلات بھی سامنے نہیں آ سکیں۔

February 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *