امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران جنگ جیت چکا ہے۔

September 4, 2026

مستونگ میں روڈ کی کشادگی اور سکیورٹی اقدامات کو منفی رنگ دینے کے لیے ایف اے ایچ کے سہولت کاروں کا پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے۔

September 3, 2026

فتنة الہندوستان کے سہولت کاروں کی جانب سے سرفراز بگٹی کے بیان کی تحریف اور سکیورٹی فورسز کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا۔

September 3, 2026

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ بی وائی سی کے رہنما سیاسی قیدی نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار کے قتل اور تشدد کی سہولت کاری میں سزا یافتہ مجرم ہیں۔

September 3, 2026

ایرانی فوج نے امریکہ کو جواب دیتے ہوئے کویت اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

September 3, 2026

افغانستان کی اسلامی تحریکِ آزادی نے ہرات کے آریانا محلے میں طالبان کے انٹیلی جنس رکن قاری عبداللہ کو ٹارگٹڈ حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کر دیا۔

September 3, 2026

طالبان کی امریکہ کو سرمایہ کاری کی پیشکش، واشنگٹن نے مسترد کردی

امریکی انکار کے بعد افغان طالبان کو سنگین سفارتی اور معاشی شکست، واشنگٹن نے معدنیات میں سرمایہ کاری کی پیشکش مسترد کر دی۔
طالبان امریکی سرمایہ کاری مسترد

افغان طالبان کو ایک بار پھر بڑی سفارتی اور معاشی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ نے افغان معدنیات میں سرمایہ کاری کی پیشکش مسترد کر دی۔

September 3, 2026

افغان طالبان حکومت کو عالمی سطح پر ایک بار پھر سنگین سفارتی اور معاشی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں امریکہ نے کابل کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری کی بڑی پیشکش کو صاف مسترد کر دیا ہے۔

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے امریکی سرمایہ کاروں کو افغانستان کے اہم معدنی ذخائر، زراعت، تجارت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور رسائی کی باقاعدہ پیشکش کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن کا طالبان حکومت کے ساتھ افغانستان کے معدنی وسائل پر کسی قسم کا تعاون کا کوئی منصوبہ نہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کسی ایسے گروہ کے ساتھ معاشی معاملات نہیں چلا سکتا جسے خصوصی طور پر نامزد دہشت گرد گروہ قرار دیا جا چکا ہو۔

امریکہ نے مؤقف اپنایا کہ طالبان کے ساتھ معاشی تعاون سے رقم براہِ راست ان کے ہاتھوں میں جائے گی، جس سے افغان شہریوں کے ساتھ ان کے ہولناک سلوک کو مزید تقویت ملے گی۔

طالبان کی جانب سے یہ التجا ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب کابل معاشی بدحالی سے نکلنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔

واشنگٹن کے اس سخت اور جارحانہ ردعمل نے ثابت کر دیا ہے کہ افغانستان کی قدرتی دولت بھی طالبان کے لیے عالمی قبولیت یا امریکا سے معمول کے تعلقات کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

یہ انکار طالبان کی مسلسل بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کو نمایاں کرتا ہے، جہاں ایک طرف وہ مغربی معاشی شراکت داری کے محتاج ہیں تو دوسری طرف ان کی انسانی حقوق مخالف پالیسیاں ان کے لیے بند گلی ثابت ہو رہی ہیں۔

دیکھیے: طالبان دور میں افغانستان: انسانی حقوق اور خواتین کی آزادی سنگین چیلنج قرار

متعلقہ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران جنگ جیت چکا ہے۔

September 4, 2026

مستونگ میں روڈ کی کشادگی اور سکیورٹی اقدامات کو منفی رنگ دینے کے لیے ایف اے ایچ کے سہولت کاروں کا پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے۔

September 3, 2026

فتنة الہندوستان کے سہولت کاروں کی جانب سے سرفراز بگٹی کے بیان کی تحریف اور سکیورٹی فورسز کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا۔

September 3, 2026

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ بی وائی سی کے رہنما سیاسی قیدی نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار کے قتل اور تشدد کی سہولت کاری میں سزا یافتہ مجرم ہیں۔

September 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *