افغان طالبان حکومت کو عالمی سطح پر ایک بار پھر سنگین سفارتی اور معاشی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں امریکہ نے کابل کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری کی بڑی پیشکش کو صاف مسترد کر دیا ہے۔
طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے امریکی سرمایہ کاروں کو افغانستان کے اہم معدنی ذخائر، زراعت، تجارت اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور رسائی کی باقاعدہ پیشکش کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن کا طالبان حکومت کے ساتھ افغانستان کے معدنی وسائل پر کسی قسم کا تعاون کا کوئی منصوبہ نہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کسی ایسے گروہ کے ساتھ معاشی معاملات نہیں چلا سکتا جسے خصوصی طور پر نامزد دہشت گرد گروہ قرار دیا جا چکا ہو۔
امریکہ نے مؤقف اپنایا کہ طالبان کے ساتھ معاشی تعاون سے رقم براہِ راست ان کے ہاتھوں میں جائے گی، جس سے افغان شہریوں کے ساتھ ان کے ہولناک سلوک کو مزید تقویت ملے گی۔
طالبان کی جانب سے یہ التجا ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب کابل معاشی بدحالی سے نکلنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔
واشنگٹن کے اس سخت اور جارحانہ ردعمل نے ثابت کر دیا ہے کہ افغانستان کی قدرتی دولت بھی طالبان کے لیے عالمی قبولیت یا امریکا سے معمول کے تعلقات کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
یہ انکار طالبان کی مسلسل بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کو نمایاں کرتا ہے، جہاں ایک طرف وہ مغربی معاشی شراکت داری کے محتاج ہیں تو دوسری طرف ان کی انسانی حقوق مخالف پالیسیاں ان کے لیے بند گلی ثابت ہو رہی ہیں۔
دیکھیے: طالبان دور میں افغانستان: انسانی حقوق اور خواتین کی آزادی سنگین چیلنج قرار