آج جب وطنِ عزیز اپنا 28واں یومِ تکبیر منا رہا ہے، تو تاریخِ پاکستان کے اوراق میں مئی کا مہینہ صرف ایک تقویمی ہندسہ نہیں، بلکہ قومی غیرت اور ناقابلِ تسخیر عزمِ دفاع کا استعارہ بن کر ابھرا ہے۔ جب ہم پاکستان کی ایٹمی قوت کی تاریخی حیثیت، جدید عسکری نظام اور ملکی سلامتی کو انتہائی مضبوط، پیشہ ورانہ اور محفوظ ہاتھوں میں دیکھتے ہیں، تو دل قومی وقار اور ملکی تحفظ کے مخلصانہ احساس سے سرشار ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا یہ لازوال اسٹریٹجک سفر محض 28 مئی 1998 کو چاغی کے سنگلاخ پہاڑوں پر نعرہِ تکبیر بلند کرنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کی تزویراتی کڑی مئی 2025ء کے تاریخی معرکہ حق (آپریشن بنیان مرصوص) کی فضائی، برّی اور بحری فتوحات سے جڑ چکی ہے۔ یہ دفاعی تسلسل، عسکری برتری اور تزویراتی توازن ہی کا نتیجہ ہے جو آج 2026ء میں عالمی منظرنامے پر پاکستان کی بے مثال سفارتی کامیابیوں، علاقائی مرکزیت اور بین الاقوامی فیصلوں کے مستحکم محور بننے کی صورت میں ہمارے سامنے جلوہ گر ہے۔
جنوبی ایشیا کی تزویراتی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ پاکستان کو اگر بھارت کے توسیع پسندانہ اور اکھنڈ بھارت جیسے جارحانہ عزائم سے اب تک کسی چیز نے محفوظ رکھا ہوا ہے، تو وہ صرف اور صرف ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی کا خوف اور عسکری توازن ہے۔ بھارت کے ساتھ امن کی آشا کے ڈول ڈالنے والے اور عالمی برادری کے گلوبل ویلیج کے رومانوی فلسفے کے تحت تجارتی و دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے خواہش مند لبرل طبقات چاہے جتنا بھی اپنا راگ الاپیں، وہ اس سچائی پر پردہ نہیں ڈال سکتے کہ دشمن نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ 1971 میں وطنِ عزیز کو دولخت کرنے کا موقع ضائع نہ کرنے والا مکار دشمن ہمیں کب کا صفحہ ہستی سے مٹا چکا ہوتا، اگر ہمارے پاس یہ دفاعی حصار موجود نہ ہوتا۔
مہا بھارت کے ماتھے پر تزویراتی خوف کی یہ تریڑی 1984 میں اس وقت واضح طور پر نمایاں ہوئی تھی جب ایک دوستانہ کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے بھارت جانے والے صدر جنرل ضیاء الحق نے راجیو گاندھی کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے تاریخی جملہ کہا تھا کہ: آپ جنگ کا شوق ضرور پورا کریں، مگر یہ یاد رکھیں کہ یہ جنگ روایتی نہیں ہوگی، کیونکہ ہم ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ اس ایک جملے نے خطے میں وہ توازن پیدا کیا جس نے آنے والی کئی دہائیوں تک بڑی جنگوں کا راستہ روکے رکھا۔ آج جو داخلی و خارجی طبقات پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ درحقیقت پاکستان کو اس کے ازلی دشمن کے لیے ایک نرم چارہ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی نے ان کے اس خبثِ باطن کے آگے ہمیشہ کے لیے ایک مضبوط بند باندھ دیا ہے۔
یہ جوہری صلاحیت صرف ایک عسکری ہتھیار نہیں، بلکہ ملکی بقا، تزویراتی توازن اور قومی خودمختاری کی سب سے مضبوط ضامن بن چکی ہے۔ اس منزلِ مراد تک پہنچانے میں ذوالفقار علی بھٹو کا کردار تاریخ کا ایک عظیم حصہ ہے، جنہوں نے 1974 میں بھارت کے پوکھران دھماکے کے بعد یہ تاریخی عزم ظاہر کیا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔
انہوں نے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے مایہ ناز سائنسدان کو اس عظیم مشن پر مامور کیا۔ بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق، غلام اسحاق خان اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس مشن کی مخلصانہ نگہبانی کی، اور بالآخر 28 مئی 1998ء کو میاں نواز شریف کے دور میں پاکستان نے بھارت کے 5 دھماکوں کے جواب میں چاغی کے مقام پر 6 ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ اگرچہ اس وقت امریکی صدر بل کلنٹن نے 5 ارب ڈالر کا معاشی لالچ اور سخت پابندیوں کی دھمکیاں دیں، مگر عوامی امنگوں اور صحافتی بطلِ جلیل مجید نظامی کی اس تاریخی للکار کہ آپ دھماکہ کر دیں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی کے سامنے مقتدر حلقوں کو جھکنا پڑا اور پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی عظیم ایٹمی قوت بن گیا۔
سلسلہِ اسٹریٹجک تسلسل کا دوسرا اہم ترین موڑ مئی 2025ء کا عسکری معرکہ ہے، جسے تاریخ آپریشن بنیان مرصوص کے نام سے یاد کرتی ہے۔ مئی 2025ء میں جب بھارت نے اپریل کے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر ایک فالس فلیگ آپریشن سندور رچایا اور رات کے اندھیرے میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی شہری آبادیوں اور مساجد پر میزائل داغ کر 31 سے زائد معصوم شہریوں کو شہید کیا، تو دشمن کا خیال تھا کہ پاکستان معاشی مشکلات کے باعث خاموش رہے گا۔ مگر 10 مئی 2025ء کو فجر کے وقت نعرہِ تکبیر بلند کرتے ہوئے افواجِ پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پُرمغز عسکری قیادت اور سیاسی یکسوئی کے تحت وہ دندان شکن جواب دیا جس کی نظیر جدید عسکری تاریخ میں نہیں ملتی۔
پاک فضائیہ کے جے ایف-17 بلاک 3 اور جے-10 سی طیاروں نے بصری حد سے پرے مار کرنے والے پی ایل میزائلوں اور الیکٹرانک وارفیئر اثاثوں کی مدد سے فضا میں اسٹرٹیجک تسلط قائم کرتے ہوئے بھارت کے 6 جدید ترین جنگی طیارے (بشمول 3 رافیل، 1 سکھوئی اور 1 مگ-29) مار گرائے۔ زمین پر پاک فوج کے فتح-1 اور فتح-2 گائیڈڈ میزائل سسٹمز نے بھارت کی 26 عسکری تنصیبات کو خاک میں ملا دیا، جس میں ادھم پور کا ایئربیس، پٹھان کوٹ اور بیاس میں براہموس میزائل کا ذخیرہ شامل تھا، جبکہ ادھم پور میں نصب بھارت کا فخر سمجھا جانے والا ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم سیکنڈوں میں تباہ کر دیا گیا۔
سائبر اسپیس میں آئی ٹی کمانڈ نے بھارت کے 70 فیصد بجلی کے گرڈز کو ناکارہ بنا دیا، جبکہ پاک بحریہ نے بحیرہ عرب کو دشمن کی بحریہ کے لیے مفلوج کر کے رکھ دیا۔ یہ آپریشن اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان جوہری حد سے نیچے رہتے ہوئے بھی ہائی ٹیک اور نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر میں روایتی طور پر چار گنا بڑے دشمن کو ناک رگڑنے پر مجبور کر سکتا ہے، جس کے بعد بھارتی قیادت اوندھے منہ گری اور عالمی طاقتوں کے ذریعے سیز فائر کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوئی۔
مئی 2025ء کی اس شاندار عسکری فتح کا براہِ راست اثر 2026 میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارتی محاذ پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ آج پاکستان کی سفارتی کامیابیاں عروج پر ہیں، اور دنیا بھر کے بڑے تزویراتی و اقتصادی فیصلے اسلام آباد اور راولپنڈی کی صوابدید کے مرہونِ منت ہو رہے ہیں۔ معرکہِ حق نے عالمی برادری، بالخصوص امریکہ، چین، روس اور مشرقِ وسطیٰ کی خلیجی ریاستوں پر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کو بائی پاس کر کے خطے میں کوئی بھی سٹرٹیجک یا اقتصادی فریم ورک تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ شاندار عسکری ڈیٹرنس کے باعث اب دنیا پاکستان کو ایک کمزور یا معاشی امداد پر چلنے والے ملک کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار, تزویراتی طور پر مضبوط اور ناگزیر علاقائی طاقت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
عالمی اقتصادی فورمز، شنگھائی تعاون تنظیم، اور برکس جیسے پلیٹ فارمز پر پاکستان کی شمولیت اور وسط ایشیائی ریاستوں کی سی پیک کے دوسرے فیز اور گوادر پورٹ کے ذریعے عالمی تجارت تک رسائی کے فیصلوں نے پاکستان کو بین الاقوامی سفارت کاری کا محور بنا دیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی جانب سے پاکستان میں اربوں ڈالر کی حالیہ سٹرٹیجک سرمایہ کاری اور دفاعی شراکت داری اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اب دنیا پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور عسکری طاقت کی ضامن بن رہی ہے۔ عالمی طاقتیں اب خطے میں امن اور توازنِ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے فیصلوں اور مؤقف کو اولیت دے رہی ہیں، اور کشمیر سمیت دیگر علاقائی تنازعات پر پاکستان کا سفارتی بیانیہ عالمی فورمز پر گونج رہا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ مئی 1998ء کا یومِ تکبیر اگر ہماری بقا کی بنیاد تھا، تو مئی 2025ء کا معرکہ حق (آپریشن بنیان مرصوص) اس بنیاد پر کھڑی ہونے والی وہ سیسہ پلائی ہوئی عسکری عمارت ہے جس نے پاکستان کو سفارتی اور تزویراتی طور پر عالمی منظرنامے کا ایک باوقار اور ناگزیر کھلاڑی بنا دیا ہے۔ ہمیں اپنی مصلحتوں اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے حقیقی قومی ہیروز ڈاکٹر عبدالقدیر خان، مجید نظامی، اور ملکی سرحدوں اور فضائی و بحری حدود کی حفاظت کرنے والے جانبازوں کی خدمات کا اعتراف کرنا ہوگا۔
یہ عسکری و سفارتی فتوحات اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ جب قوم اور عسکری قیادت ایک پیج پر بنیان مرصوص کی طرح متحد ہوں، تو معاشی مشکلات عارضی ثابت ہوتی ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو جھکانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی۔ مئی کے اس تاریخی مہینے میں نعرہِ تکبیر بلند کرتے ہوئے، پاکستانی قوم دنیا کو یہ پیغام دیتی رہے گی کہ اس کا دفاع، اس کی خودمختاری اور اس کا وقار ہمیشہ ناقابلِ تسخیر رہے گا۔ پاکستان زندہ باد، افواجِ پاکستان پائندہ باد!