اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے ، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے زور ڈالے۔

December 13, 2025

سابق سفارتکاروں نے بھی اس بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اکثر تصدیق شدہ زمینی حقائق کے بغیر یکطرفہ رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں، جو ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہر ملک کے عدالتی فیصلوں کو انسانی حقوق کے نام پر سیاسی رنگ دیا جائے تو عالمی نظام انصاف کمزور ہو جائے گا۔

December 13, 2025

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پیکس سیلیکا کا مقصد “اہم معدنیات، توانائی، ایڈوانس مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، اے آئی انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس سمیت ایک محفوظ اور ترقی یافتہ سلیکون سپلائی چین کی تشکیل” ہے۔

December 12, 2025

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی حساس اور اعلیٰ سطحی دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی پاکستان پر اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ واشنگٹن یہ تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام، انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

December 12, 2025

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل میں برطانیہ کی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ حکومت ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی کارکردگی، سرکاری اداروں کی تنظیم نو، پبلک فنانس مینجمنٹ اور نجکاری جیسے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔

December 12, 2025

یہ رپورٹ جس میں ’ڈیورنڈ لائن‘ کو فرضی سرحد کے طور پر پیش کیا گیا ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کابل میں 1,000 سے زائد افغان علما نے ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا ہے جس میں افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال کرنا “حرام” قرار دیا گیا ہے۔

December 12, 2025

فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا

ایران پارلیمنٹ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کو سرکاری سطح پر منظور کر لیا۔
ایران پارلیمنٹ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کو سرکاری سطح پر منظور کر لیا۔

ایران کی پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہےکہ ملک کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کے ساتھ ایران تعاون معطل کرتا ہے

June 25, 2025

ایران۔استنبول 25 جون2025

ایک واضح اور اسٹریٹجک اقدام میں ایران کی پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہےکہ ملک کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرتا ہے۔ جسکی وجہ سے خطے کی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ایران کی فوری کارروائی

حالیہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں ایرانی اراکین پارلیمنٹ نے پیر کو پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اس بل کو منظور کیا۔ اس قانون کے تحت آئی اےای اگ کے ساتھ تمام تعاون فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا جب تک کہ ایران کو ایجنسی کی غیر جانب داری کی ٹھوس ضمانتیں نہیں مل جاتیں۔

کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے بل منظوری کی تصدیق کی اور زور دیا کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ مثبت رویہ اپنائے تب ہی نظرِ ثانی کی جاسکتی ہے اورکوئی تعاون دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

ادھر پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر نے سخت تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا “ایران کا بدامنی کی کسی سرگرمی کا منصوبہ نہیں ہے لیکن دنیا نے واضح طور پر دیکھ لیا کہ آئی اے ای اے نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی اور اب یہ ایک سیاسی آلہ کار بن چکا ہے۔”

پابندی عائد

نئے بل کے تحت ایران آئی اے ای اےکو رپورٹیں جمع کروانے سے انکار کر دے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور ایجنسی پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ملکی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔

رضائی نے مزید کہا کہ ایران تب تک تعاون دوبارہ شروع نہیں کرے گا جب تک کہ اس کے جوہری پروگرام کی سلامتی اور خودمختاری کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور جانبداری کے نتیجہ میں ہے

جوابی کارروائی

یہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اسرائیل نے 13 جون کو ایران کے فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ اسرائیل نے الزام عائدکیا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے قریب تر پہنچ رہا ہے یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے تہران نے سختی سے مسترد کر دیا۔

اس کے بعد امریکہ نے فوردو، اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کر کے تنازعے میں شامل ہوا۔ جواباً ایران نے ڈرون اور میزائل حملے کیے جس کے نتیجے میں تقریباً دو ہفتوں تک جنگی کشیدگی چلتی رہی۔

بالآخر پیر کےرصز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا،جس سے کشیدگی میں بظاہر کمی آئی۔

جوہری ترقی

جنگ بندی کے باوجود ایران کے جوہری توانائی آرگنائزیشن نے پرامن جوہری ترقی کی تصدیق کی۔ حکام نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔

آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون

موجودہ کشیدگی کے دوران ایران اپنی خودمختاری کے دفاع پر قائم ہے اور اصرار کرتا ہے کہ جوہری نگران ادارے کے ساتھ مستقبل میں کوئی بھی تعاون بین الاقوامی ذمہ داری اور سلامتی کی ضمانتوں پر منحصر ہوگا۔

دیکھیں: پاکستان کا مشرق وسطیٰ کشیدگی کے دوران سفارتی پختگی کا مظاہرہ

متعلقہ مضامین

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے ، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے زور ڈالے۔

December 13, 2025

سابق سفارتکاروں نے بھی اس بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اکثر تصدیق شدہ زمینی حقائق کے بغیر یکطرفہ رپورٹس پر انحصار کرتے ہیں، جو ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہر ملک کے عدالتی فیصلوں کو انسانی حقوق کے نام پر سیاسی رنگ دیا جائے تو عالمی نظام انصاف کمزور ہو جائے گا۔

December 13, 2025

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پیکس سیلیکا کا مقصد “اہم معدنیات، توانائی، ایڈوانس مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، اے آئی انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس سمیت ایک محفوظ اور ترقی یافتہ سلیکون سپلائی چین کی تشکیل” ہے۔

December 12, 2025

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے اس نوعیت کی حساس اور اعلیٰ سطحی دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی پاکستان پر اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ واشنگٹن یہ تسلیم کر رہا ہے کہ پاکستان خطے میں استحکام، انسدادِ دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

December 12, 2025

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *