لنڈسے گراہم کی بوکھلاہٹ: پاکستان کے مخلصانہ مصالحتی کردار سے امن دشمنوں کو خطرہ لاحق

پاکستان واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے قابلِ اعتماد ثالث ہے۔ مصالحت کی کامیابی کا دارومدار ساکھ اور غیر جانبداری پر ہوتا ہے۔ سینیٹر گراہم جیسے سیاستدانوں کو شاید ایک مخلص ثالث قبول نہیں۔ وہ خطے میں امن کے بجائے مخصوص مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔
عوامی مینڈیٹ یا خاندانی ہدایات؟ سہیل آفریدی کی اڈیالہ یاترا اور کے پی حکومت کی ترجیحات پر سنگین سوالات

سہیل آفریدی اداروں کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہیں مگر اپنی کارکردگی پر خاموش ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات اور انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ صوبہ پچھلے تیرہ سال سے ایک ہی سیاسی سوچ کے زیرِ اثر ہے مگر نتائج صفر ہیں۔ ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا اب عوامی خدمت نہیں رہا۔ عوام کو احتجاجی کمیٹی نہیں بلکہ ایک فعال اور ذمہ دار حکومت کی ضرورت ہے۔
امریکی میڈیا کی جانب سے جانبداری کے الزامات مسترد؛ صدر ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ بننے والی رپورٹر کی جانب سے پاکستان کے مصالحتی کردار کو مشکوک بنانے کی کوشش ناکام

علینا ٹرین کا یہ رویہ وہی ہے جسے صدر ٹرمپ نے ہمیشہ ناپسند کیا۔ خود ٹرمپ نے ان کے منفی سوالات پر کئی بار عوامی سطح پر ٹوکا تھا۔ واشنگٹن کے مخصوص میڈیا حلقے ہر مثبت عمل کو منفی رنگ دیتے ہیں۔
پاک افغان سرحد پر کشیدگی: لنڈی کوتل کے علاقے سرصوبی کنڈاو پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ؛ مقامی ذرائع

واقعے کے فوری بعد طورخم بارڈر پر آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور دونوں اطراف سے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔
سیاست پر قانون کی فتح: پشاور عدالت نے مئی 2023 کے تشدد کیس میں 74 پی ٹی آئی کارکنوں کو بری کر دیا؛ فیصلے نے عدلیہ کی خود مختاری اور قانون کی بالادستی پر مہر ثبت کر دی

عدلیہ کے لیے یہ “منتخب احترام” کا رویہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی فریق اس دوغلی پالیسی سے باہر آئیں اور تسلیم کریں کہ انصاف نعروں یا مقبولیت کے بجائے صرف قانون کی زبان بولتا ہے۔
کھیل میں سیاست اور ویزا کا غیر اخلاقی استعمال: پاکستانی نژاد انگلینڈ کھلاڑی شعیب بشیر نے ویزا کے حصول میں بھارتی رکاوٹوں کا جواب تاریخی فتح سے دیا

اس سے قبل بھی انگلینڈ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد کھلاڑیوں اور صحافیوں کو صرف اس لیے غیر ضروری اسکروٹنی اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی جڑیں پاکستان میں تھیں یا ان کی پہچان بطور مسلمان تھی۔
تنقید برائے تنقید: مشاہد حسین کی جانب سے ملکی کامیابیوں کو کم تر دکھانے کی کوشش، قوم عملی روڈ میپ کی منتظر

اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنقید کرنے والوں کے پاس اپنا کیا منصوبہ ہے؟ معاشی بحالی کے لیے ان کا عملی روڈ میپ کہاں ہے؟ اور سیاسی تقسیم کو کم کرنے کے لیے انہوں نے کون سا قابلِ عمل فارمولا پیش کیا ہے؟ محض ری سائیکل شدہ جملوں اور ڈرائنگ روم پولیٹکس سے قوم کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔
نوجوانوں کا استعمال اور ریاست مخالف بیانیہ: ادیبہ ظہیر کی پریس کانفرنس نے بی وائی سی کے عزائم کا پول کھول دیا

انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کے اندر نوجوانوں کو اشتعال انگیز بیانیے کے تحت متحرک کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ریاست سے دور کیا جا سکے۔ اپنی سابقہ سرگرمیوں پر شدید ندامت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ اس انتشاری سیاست کا مزید حصہ نہیں رہ سکتیں اور آئینی و قومی دھارے میں رہ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔
تبدیلی یا تباہی؟ کے پی میں زکوٰۃ و عشر اور آئل اینڈ گیس فنڈز میں مبینہ کرپشن؛ سہیل آفریدی سے عوامی حساب کا مطالبہ

زکوٰۃ کا پیسہ جو بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کا حق ہے، اس میں خرد برد کے الزامات نے “عوامی حکومت” کے لبادے کو چاک کر دیا ہے۔ صوبے کے عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر محکموں کے اندر جاری مبینہ لوٹ مار پر اینٹی کرپشن جیسے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں
بنوں: پولیس اسٹیشن پر حملے میں افغان سرزمین اور بھارتی پراکسی گٹھ جوڑ بے نقاب

یہ بزدلانہ حملہ پاکستان کی ‘معرکۂ حق’ اور ‘غضب للحق’ جیسے آپریشنز میں نمایاں کامیابیوں کے بعد بھارت اور اس کے پراکسی ماسٹر افغانستان کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔