افغانستان نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ وہ تاجکستان کے سرحدی علاقے میں تین چینی شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے “اطلاعات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ جائزوں” کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تاجکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ 26 نومبر 2025 کی رات شمس الدین شاہین، خطۂ ختلان میں ایک کیمپ پر ہونے والا مسلح حملہ افغانستان کی سرزمین سے کیا گیا، جس میں تین چینی شہری مارے گئے۔
افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق ابتدائی معلومات اور متعلقہ اداروں کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ “اس واقعے میں وہ گروہ شامل ہے جو خطے کے ممالک کے درمیان بدنظمی، عدم استحکام اور بے اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے”۔
وزارت نے چین اور تاجکستان کے لیے گہرے افسوس کے ساتھ اس واقعے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “حکومتِ افغانستان، حکومتِ تاجکستان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے” اور واقعے کے تمام عوامل جاننے کے لیے “اطلاعات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور مشترکہ تحقیقات” کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ افغانستان اس افسوس ناک واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسے خطے کے امن و استحکام کے خلاف ایک مذموم کوشش قرار دیتا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ “اسلامی امارتِ افغانستان ایک بار پھر واقعے کے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور انہیں یقین دہانی کراتی ہے” کہ ذمہ داروں کی نشاندہی اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔