بلوچستان کے ضلع نوشکی اور چاغی میں بدھ کے روز فرنٹیئر کور کے مراکز پر فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں نے کا حملہ، جس کے بعد دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے خودکش حملہ آور نے نوشکئی کے علاقے نوکندی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر کے مرکزی داخلی دروازے پر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ذرائع کے مطابق دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ حملہ بی ایل ایف کی جانب سے کیا گیا جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ ایس ایس پی چاغی محمد شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوابی کارروائی کے بعد علاقے مین سرچ آپریشن جاری ہے۔
تازہ ترین |
— HTN Urdu (@htnurdu) November 30, 2025
بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ایک خودکش حملہ آور نے نوشکی کے علاقے نوکندی میں فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حکام کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا جو تاحال جاری ہے۔… pic.twitter.com/3icDaG4ntA
حملے کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے مزید سخت انتظامات کردیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں متعدد خوارج ہلاک ہو چکے ہیں۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کی ایک خاتون عسکریت پسند نے چاغی، بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر پر خودکش کار بم حملہ کیا ہے۔
— HTN Urdu (@htnurdu) December 1, 2025
تنظیم کی طرف سے جاری کردہ تصویر میں خودکش بمبار خاتون زرینہ رفیق عرف ترانگ ماہو امریکہ ساختہ Colt / FN M4A1 کاربائن کے ساتھ پوز دیتی نظر آتی ہے۔ pic.twitter.com/EBmyxq6Oto
چاغی حملے کی بی ایل ایف نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اسکی عسکریت پسند خاتون نے چاغی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر کے باہر خودکش کار بم حملہ کیا۔ بی ایل ایف کی جانب سے جاری کردہ تصویر میں مبینہ حملہ آور زرینہ رفیق عرف ترانگ ماہو کو دیکھا جاسکتا ہے۔ چاغی حملے کے فوری بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیے گئے ہیں۔