افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایرانی نشریاتی ادارے ریڈیو ایران کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی نوبت نہ آئے، تاہم اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو طالبان حکومت اپنی استطاعت کے مطابق ایران سے تعاون کرے گی۔
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق یہ تعاون اس صورت میں کیا جائے گا جب ایران باقاعدہ طور پر طالبان حکومت سے مدد کی درخواست کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان خطے میں کشیدگی کے بجائے استحکام کے خواہاں ہیں، لیکن اگر کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو حالات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ایران کو برتری حاصل رہی، اور اگر مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہوئی تو ایران ایک بار پھر کامیاب ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق طالبان ترجمان کا یہ بیان خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صف بندیوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں افغانستان کی موجودہ حکومت اپنے علاقائی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب امریکہ یا ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں اور مستقبل کی علاقائی حکمت عملی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
دیکھیے: افغانستان میں سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رہائش کی پیشکش اور عالمی تحفظات