سہیل آفریدی کے جانب سے “عمران خان رہائی فورس” کے قیام کے اعلان نے ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی سطح پر سامنے آنے والے اس اعلان کو حکومت اور اپوزیشن دونوں حلقوں میں مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقے اسے سیاسی دباؤ بڑھانے کی ایک منظم حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے حامی اسے اپنے قائد کی رہائی کے لیے سیاسی و آئینی جدوجہد کا تسلسل بتا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین اس پیش رفت کا تقابلی جائزہ ماضی کی متنازع تنظیم الذوالفقار سے بھی لے رہے ہیں، جسے 1980 کی دہائی میں ایک مزاحمتی ڈھانچے کے طور پر پیش کیا گیا تھا مگر بعد ازاں وہ ریاستی کریک ڈاؤن اور اندرونی کمزوریوں کا شکار ہو گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے فورس یا متوازی تنظیم سازی کی بات کی جائے گی تو اس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ اور ادارہ جاتی تصادم کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، تجزیہ کاروں نے عمران خان کے سابقہ تصور “پی ٹی آئی ٹائیگرز” کا حوالہ بھی دیا، جو عملی شکل اختیار نہ کر سکا اور سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کا موضوع بن گیا۔ مخالفین کا مؤقف ہے کہ “عمران خان رہائی فورس” بھی اسی نوعیت کا ایک نعرہ ثابت ہو سکتا ہے جو وقتی جوش تو پیدا کرے گا لیکن پائیدار سیاسی نتیجہ برآمد نہیں کرے گا۔
ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ “آئی کے رہائی فورس” کا انجام بھی “پی ٹی آئی ٹائیگرز” جیسا ہو سکتا ہے یعنی ایک ایسا منصوبہ جو تنظیمی ڈھانچے، قانونی جواز اور عملی حکمت عملی کے فقدان کے باعث مؤثر کردار ادا نہ کر سکے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مکمل طور پر آئینی، پرامن اور سیاسی جدوجہد کے دائرے میں ہوگا، جس کا مقصد کسی تصادم کو ہوا دینا نہیں بلکہ کارکنان کو منظم کرنا ہے۔ تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ کسی بھی “فورس” کے قیام کا اعلان سیاسی ماحول میں مزید پولرائزیشن کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند دنوں میں اس اعلان کی عملی نوعیت، قانونی حیثیت اور تنظیمی ڈھانچے کی وضاحت سامنے آنے کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ آیا یہ اقدام واقعی کوئی مؤثر سیاسی دباؤ پیدا کر پائے گا یا پھر ماضی کی طرح محض ایک علامتی نعرہ ثابت ہوگا۔
دیکھیے: عمران خان کی صحت، قانونی حقوق اور احتجاجی سیاست پر سیاسی محاذ آرائی تیز