سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ملک سے غیر ملکی کمپنیوں کے انخلاء سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایس ای سی پی کی حالیہ وضاحت نے ان تمام افواہوں کا خاتمہ کر دیا ہے جو پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر کے حوالے سے بے یقینی پیدا کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی تھیں۔
ایس ای سی پی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2022 سے 2025 کے درمیان صرف 19 غیر ملکی کمپنیوں نے اپنے آپریشنز بند کیے، جبکہ اس کے برعکس اسی عرصے میں 79 نئی غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا اندراج کرایا۔ سوشل میڈیا اور مخصوص حلقوں کی جانب سے “125 کمپنیوں کے انخلا” کا جو بیانیہ بنایا جا رہا ہے، وہ درحقیقت 1977 سے اب تک کے مجموعی اعداد و شمار ہیں، جنہیں حالیہ تین سالوں سے منسوب کرنا سراسر گمراہ کن اور ‘منفی نیریٹیو’ کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق فروری 2026 تک ایس ای سی پی کے پاس رجسٹرڈ غیر ملکی کمپنیوں کی مجموعی تعداد 1,157 ہے، جو پاکستان میں بین الاقوامی اداروں کی مستحکم موجودگی کی عکاسی کرتی ہے۔

سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف گزشتہ ماہ ہی 82 مقامی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ ان سرمایہ کاروں کا تعلق چین، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، ترکی، جنوبی کوریا اور اسپین جیسی بڑی عالمی معیشتوں سے ہے، جو پاکستان کی مارکیٹ کے تابناک مستقبل پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹ نیو اینٹریز کا یہ مثبت رجحان اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب بھی عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بہترین ملک ہے۔ ایس ای سی پی کی اس وضاحت نے ثابت کر دیا ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کے اخراج کے دعوے محض ایک افسانہ ہیں، جبکہ حقیقت میں بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان کے کارپوریٹ منظر نامے میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔
دیکھیے: مودی سرکار کے منظورِ نظر اب ایمنیسٹی کے سربراہ؛ پاکستان کے خلاف منظم بین الاقوامی سازش