کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز ایک آزاد تحقیقاتی ادارہ ہے جو جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور تنازعات سے متعلق مسائل کو کاتبی صورت میں مرتب کرتا ہے۔ کشمیر انسٹیٹیوٹ جانب سےایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی مظالم نے کشمیری عوام کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ذہنی صحت کا تعلق مقامی حالات اور ضمانت شدہ انسانی حقوق سے ہے، تین دہائیوں کے مسلح تنازع میں ایک لاکھ سے زائد افرادجاں بحق ہوئے، آئی آئی او جے کے میں 8,000 سے زائد جبری گمشدگیوں کو دستاویزی شکل دی گئی۔
رپورٹ میں 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35اے منسوخ کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگست 2019 کے بعد کشمیر میں طویل کرفیو اور تاریخ کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش رہی۔ تحقیق کے مطابق 45 فیصد بالغ افراد، یعنی تقریباً 18 لاکھ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ڈپریشن 41 فیصد، بے چینی 26 فیصد اور پی ٹی ایس ڈی 19 فیصد افراد کو متاثر کر رہی ہے،
سروے کیے گئے تقریباً 47 فیصد بالغ افراد شدید صدمہ خیز واقعات سے گزرے، 8 سے 14 سال کی عمر کے 22 سے 27 فیصد بچوں میں نفسیاتی امراض پائے گئے، 1994 سے 2012 کے درمیان خودکشی کی کوششوں میں 250 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
ذہنی صحت کے صرف تقریباً 10 فیصد مریضوں کو علاج میسر ہے، 2011 کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر کی آبادی 1 کروڑ 25 لاکھ تھی، پورے خطے میں صرف 41 ماہرِ نفسیات موجود ہیں جو زیادہ تر جموں اور سری نگر میں ہیں۔
ذہنی صحت کی خدمات زیادہ تر جی ایم سی سری نگر اور سکمز ہسپتال تک محدود ہیں، 10 اضلاع میں مجموعی طور پر 140 نفسیاتی بستروں کی سہولت موجود ہے، پورے صوبے میں ضلعی کنسلٹنٹس کی تعداد صرف پانچ سے چھ ہے، آئی ایم ایچ اے این ایس نے 2020 کے دوران 77,000 سے زائد ذہنی صحت کے مریض رپورٹ کیے۔
ڈاکٹر ارشد حسین نے کووڈ 19 کے دوران بے چینی اور ڈپریشن میں اضافے کی نشاندہی کی، نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق 61 فیصد خواتین تولیدی مسائل کی شکایت کرتی ہیں،قومی اوسط تولیدی مسائل کے لیے 39 فیصد ہے۔