بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورۂ اسرائیل اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی حکومت کے ساتھ کھلی صف بندی نے جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ دورہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بھارت کی اس دیرینہ پالیسی سے واضح انحراف ہے جس کے تحت وہ اسرائیل، عرب ممالک اور ایران کے ساتھ بیک وقت مستحکم تعلقات استوار رکھتا تھا۔
ڈی سی جرنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل محض روایتی سفارت کاری نہیں بلکہ اسرائیل اور بالواسطہ طور پر امریکہ کے ساتھ ایک واضح سیاسی اتحاد ہے، جس نے اسرائیل، خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان بھارت کی دیرینہ توازن کی پالیسی کو کمزور کر دیا ہے۔
مودی کی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ عوامی سطح پر یکجہتی اور ایران سے دوری دہلی اور تہران کے تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے، جس کے باعث امریکی دباؤ کے تحت بھارت کے لیے چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اسرائیل میں نریندر مودی کا خطاب اور دفاعی تعاون پر غیر معمولی گفتگو کو تہران اور عرب دنیا میں ایک مخصوص فریق کے انتخاب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں مودی کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اب واشنگٹن اور تل ابیب کی خوشنودی کے لیے اپنے روایتی شراکت دار ایران کے ساتھ تعلقات کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
اس تزویراتی تبدیلی کا سب سے بڑا اثر ایران میں بھارت کے اسٹریٹجک منصوبے ‘چابہار بندرگاہ’ پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ واشنگٹن کے دباؤ اور اپریل 2026 تک پابندیوں سے استثنیٰ کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس منصوبے کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے، جس سے نہ صرف بھارت کو 120 ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ خطے میں اس کی اقتصادی رسائی بھی محدود ہو جائے گی۔
علاوہ ازیں خلیجی ممالک میں مقیم تقریباً 80 لاکھ سے زائد بھارتی تارکینِ وطن کے لیے بھی اس پالیسی کے منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق، بھارت کو سالانہ 129 ارب ڈالر کی خطیر ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں، جن کا بڑا حصہ خلیج سے آتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں یہ بیانیہ مضبوط ہوا کہ بھارت اسرائیل کے حامی سلامتی ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے، تو ان ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کو سماجی ردِعمل، ویزا پابندیوں اور کام کی جگہوں پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت کی اس نئی حکمتِ عملی نے جہاں اسے دفاعی اور تکنیکی میدان میں اسرائیل کے قریب کر دیا ہے، وہاں مغربی ایشیا کی پیچیدہ اور حساس کشیدگیوں کو بھارت کے لیے درآمد کرنے کا خطرہ بھی پیدا کر دیا ہے، جس کی قیمت تزویراتی اور معاشی طور پر مستقبل میں بھاری ثابت ہو سکتی ہے۔
دیکھیے: مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ایران کے خلاف ‘یہود و ہنود’ گٹھ جوڑ پر عوامی تشویش