دی ڈپلومیٹ میں 6 مارچ 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان، آئی ایس آئی، داعش خراسان اور چین سے متعلق لگائے گئے الزامات کو ماہرین نے غیر مصدقہ اور یک طرفہ قرار دے دیا ہے، رپورٹ بنیادی طور پر افغان تجزیہ کار اجمل سہیل کے انٹرویو اور رائے پر مبنی ہے جس میں آزاد شواہد یا سرکاری دستاویزات پیش نہیں کی گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال 2021 کے بعد انتہائی پیچیدہ ہوچکی ہے جہاں متعدد شدت پسند گروہ سرگرم ہیں، ایسے ماحول میں کسی ایک واقعے یا دعوے کی بنیاد پر پاکستان پر خطے کے مختلف گروہوں کو کنٹرول کرنے کا الزام لگانا مضبوط ثبوتوں کے بغیر درست تجزیہ نہیں۔
رپورٹ میں 21 فروری کو پاکستان سے افغانستان جانے والی مبینہ اسلحہ کھیپ کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم اس دعوے کی نہ کسی بین الاقوامی ادارے نے تصدیق کی اور نہ ہی کوئی فرانزک یا تفتیشی رپورٹ سامنے آئی جو اس معاملے میں پاکستانی ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کو ثابت کرے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں جن ہتھیاروں کا ذکر کیا گیا وہ زیادہ تر شارٹ رینج سب مشین گنز اور پستول تھے، جبکہ خطے میں سرگرم شدت پسند تنظیمیں عموماً اسالٹ رائفلز، راکٹ لانچرز اور دھماکا خیز مواد استعمال کرتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ پاکستان افغانستان میں چینی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا کر بیجنگ پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ پاکستان کی سی پیک، علاقائی رابطہ کاری اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا
داعش خراسان سے مبینہ تعلق کے الزام پر ماہرین نے یاد دلایا کہ مارچ 2025 میں ایبی گیٹ حملے کے مرکزی ملزم محمد شریف اللہ کی گرفتاری پاکستان کے تعاون سے ممکن ہوئی تھی جس پر امریکا نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا تھا۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق بڑے دعووں کے لیے ٹھوس شواہد، واقعاتی ڈیٹا اور آزاد تحقیقات ضروری ہوتی ہیں، جبکہ مذکورہ رپورٹ میں زیادہ تر دعوے ایک تجزیہ کار کے بیانیے پر مبنی نظر آتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کے حساس سیکیورٹی معاملات پر سنجیدہ صحافت کے لیے ضروری ہے کہ الزامات کو رائے یا قیاس آرائی کے بجائے قابل تصدیق شواہد اور متوازن نقطہ نظر کے ساتھ پیش کیا جائے۔