خوست کے ضلع علی شیر میں طالبان نے ڈیورنڈ لائن کے ساتھ اپنی پوسٹیں چھوڑ دی ہیں اور اس وقت توروابو اور قدامو کے دیہات میں سول آبادی کے درمیان مورچے کھودنے اور توپ خانہ نصب کرنے کا کام جاری ہے

March 17, 2026

طالبان کے ترجمان کی کا کابل میں ہسپتال پر حملے اور بھاری جانی نقصان کے دعوے بے بنیاد؛ یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو چھپانے اور دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کو چھپانے کا پراپیگنڈا ہے

March 17, 2026

پاکستان نے ‘آپریشن غضب للحق’ کے تحت کابل اور ننگرہار میں طالبان کے زیرِ اثر عسکری مراکز تباہ کر دیے؛ ثانوی دھماکوں نے وہاں موجود اسلحہ کے بڑے ذخائر کی موجودگی ثابت کر دی

March 17, 2026

افغان حکام نے فوجی تنصیبات اور عسکری سرگرمیوں کی تصاویر بنانے یا انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کو قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا کا انتباہ دیا ہے

March 17, 2026

حیران کن طور پر دو دن قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ قندھار میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اگلے ہی دن ایک اور ایسے ہسپتال پر حملے اور 400 ہلاکتوں کا دعویٰ کر دینا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔

March 17, 2026

یہ فیصلہ افغان عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب طالبان گزشتہ تقریباً پانچ برسوں سے سخت گیر پالیسیاں نافذ کیے ہوئے ہیں

March 16, 2026

افغانستان میں فوجی تنصیبات کی تصاویر بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پابندی عائد

افغان حکام نے فوجی تنصیبات اور عسکری سرگرمیوں کی تصاویر بنانے یا انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کو قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا کا انتباہ دیا ہے
افغان حکام نے فوجی تنصیبات اور عسکری سرگرمیوں کی تصاویر بنانے یا انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کو قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا کا انتباہ دیا ہے

افغانستان میں حساس مقامات کی ویڈیو گرافی اور معلومات کی آن لائن تشہیر پر پابندی عائد؛ حکام کا کہنا ہے کہ عسکری تفصیلات کا رساؤ دشمن کو حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتا ہے

March 17, 2026

افغان حکومت نے قومی سلامتی کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر ایک نیا اور سخت حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت فوجی تنصیبات، حفاظتی مراکز اور حساس عسکری سرگرمیوں کی کسی بھی قسم کی تصاویر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق اب کسی بھی شہری یا غیر ملکی کے لیے فوجی چھاؤنیوں، سکیورٹی چوکیوں، انٹیلیجنس دفاتر اور دیگر حساس مقامات کی تصاویر بنانا یا ویڈیوز ریکارڈ کرنا سنگین جرم تصور ہوگا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ ممنوعہ مقامات کی بصری تفصیلات جمع کرنا یا سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں اور آلات کی نقل و حرکت کو ریکارڈ کرنا ملک کے دفاعی مفادات کے منافی ہے۔

حکومتی اعلامیے میں خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فیس بک، ایکس یا دیگر ذرائع پر ایسی کسی بھی معلومات یا بصری مواد کو شیئر کرنا جو عسکری تنصیبات کو سامنے لائے، براہِ راست قومی سلامتی کے خلاف اقدام سمجھا جائے گا۔

طالبان انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ دشمن عناصر اور مسلح گروہ ان تصاویر اور ویڈیوز کا سہارا لے کر حساس مقامات کے نقشوں، داخلی و خارجی راستوں اور اہلکاروں کی تعداد کا اندازہ لگا سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں انہیں مدد مل سکتی ہے۔ لہٰذا سکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے معلومات کے اس قسم کے غیر ضروری رساؤ کو روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اب شہریوں اور میڈیا نمائندوں کے لیے سکیورٹی سے متعلقہ امور کی خبر یا عوامی مقامات پر کیمرے کا استعمال انتہائی پرخطر ہو جائے گا، کیونکہ معمولی سی غلط فہمی بھی انہیں سنگین قانونی الزامات کا شکار بنا سکتی ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کے علمبرداروں کی جانب سے اسے معلومات تک رسائی پر مزید قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دیکھیے: کابل کے حساس علاقے میں ٹی ٹی پی قیادت کی پناہ گاہیں، عالمی برادری کے شدید تحفظات

متعلقہ مضامین

خوست کے ضلع علی شیر میں طالبان نے ڈیورنڈ لائن کے ساتھ اپنی پوسٹیں چھوڑ دی ہیں اور اس وقت توروابو اور قدامو کے دیہات میں سول آبادی کے درمیان مورچے کھودنے اور توپ خانہ نصب کرنے کا کام جاری ہے

March 17, 2026

طالبان کے ترجمان کی کا کابل میں ہسپتال پر حملے اور بھاری جانی نقصان کے دعوے بے بنیاد؛ یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو چھپانے اور دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کو چھپانے کا پراپیگنڈا ہے

March 17, 2026

پاکستان نے ‘آپریشن غضب للحق’ کے تحت کابل اور ننگرہار میں طالبان کے زیرِ اثر عسکری مراکز تباہ کر دیے؛ ثانوی دھماکوں نے وہاں موجود اسلحہ کے بڑے ذخائر کی موجودگی ثابت کر دی

March 17, 2026

حیران کن طور پر دو دن قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ قندھار میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اگلے ہی دن ایک اور ایسے ہسپتال پر حملے اور 400 ہلاکتوں کا دعویٰ کر دینا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔

March 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *