افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

ایران کی جنگی حکمت عملی: قلیل مدتی فائدہ، طویل مدتی خطرات

خلیج فارس دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی فراہم کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 17 سے 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے یا اس پر دباؤ ڈالنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے شدید جھٹکا بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔
ایران کی جنگی حکمت عملی: قلیل مدتی فائدہ، طویل مدتی خطرات

آخرکار، ہر جنگ میں ایک حد آتی ہے جہاں اس کے معاشی، سفارتی اور سیکیورٹی اخراجات اس کے ممکنہ فوائد سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ایران کے لیے بھی یہ ایک اہم سوال ہے کہ آیا موجودہ حکمتِ عملی اس حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔

April 3, 2026

ایران کی موجودہ جنگی حکمتِ عملی کو اگر مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کا مقصد صرف فوری عسکری برتری حاصل کرنا نہیں بلکہ خطے میں اسٹریٹیجک دباؤ پیدا کرنا، اپنے مخالفین کو ڈیٹر کرنا اور مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمتِ عملی اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہے یا اس کے نتیجے میں نئے خطرات اور غیر ارادی نتائج جنم لے رہے ہیں؟

ایران کی جانب سے تنازع کو خلیجی خطے تک وسعت دینا بظاہر ڈیٹرنس اور لیوریج حاصل کرنے کی کوشش ہے، لیکن عملی طور پر یہ حکمتِ عملی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔ خلیجی ممالک، جو براہِ راست فریق نہیں تھے، اب خود کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں، جس سے علاقائی اتحاد مزید مضبوط ہو سکتے ہیں اور ایران کے خلاف صف بندی بڑھ سکتی ہے۔ اس طرح محدود جنگ کو وسیع کرنے کا عمل ایران کی پوزیشن مضبوط کرنے کے بجائے اس کے خلاف ایک وسیع تر اتحاد کو جنم دے سکتا ہے۔

معاشی اعتبار سے بھی یہ حکمتِ عملی خطرات سے خالی نہیں۔ خلیج فارس دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی فراہم کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 17 سے 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے یا اس پر دباؤ ڈالنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے شدید جھٹکا بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ اس کا اثر نہ صرف مغربی ممالک بلکہ خود خطے کی معیشتوں پر بھی پڑے گا، جن کا انحصار توانائی کی برآمدات پر ہے۔

قانونی اور اخلاقی پہلو سے بھی ایران کی حکمتِ عملی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ بین الاقوامی قوانین، خصوصاً اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت، کسی ایسے ملک کو نشانہ بنانا جو براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہو، تناسب اور خود دفاع کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔ توانائی کے مراکز، بندرگاہوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے نہ صرف معاشی بلکہ انسانی بحران کو بھی جنم دیتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر ایران کی سفارتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، خطے میں کشیدگی بڑھانے سے طویل المدتی دشمنی کو فروغ ملنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں عرب، ایرانی، ترک اور دیگر اقوام کو ہر صورت ایک ساتھ رہنا ہے۔ اگر موجودہ کشیدگی مزید بڑھی تو یہ فرقہ وارانہ اور جغرافیائی تقسیم کو گہرا کر سکتی ہے، جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

ایک اور اہم پہلو سفارتی تنہائی کا خطرہ ہے۔ اگر عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور غیر جانبدار ممالک بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں تو ایران کے لیے بین الاقوامی حمایت برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس طرح تنازع کو وسعت دینا وقتی طور پر دباؤ تو پیدا کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ ایران کے لیے سفارتی تنہائی کا سبب بن سکتا ہے۔

آخرکار، ہر جنگ میں ایک حد آتی ہے جہاں اس کے معاشی، سفارتی اور سیکیورٹی اخراجات اس کے ممکنہ فوائد سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ایران کے لیے بھی یہ ایک اہم سوال ہے کہ آیا موجودہ حکمتِ عملی اس حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر تنازع کو محدود کرنے، سفارتی راستے اختیار کرنے اور ایک قابلِ قبول سیاسی حل کی طرف بڑھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

دیکھیے: اسرائیل کا اے آئی جنگی نظام بے نقاب، ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی تفصیلات سامنے آگئیں

متعلقہ مضامین

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *