واشنگٹن/اسلام آباد: بین الاقوامی جریدے ایشیا ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بڑھتے سفارتی تعلقات کے بعد امریکا کیلئے بھارت پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ حالیہ ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کا کردار نمایاں رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں متحرک رہا، جبکہ اس کے برعکس بھارت کی سفارتکاری خطے کے اس اہم بحران کے دوران غیر مؤثر اور خاموش دکھائی دی۔
ایشیا ٹائمز کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو میں زیادہ تر توجہ تیل اور سپلائی کے معاملات پر رکھی، جبکہ پاکستان علاقائی امن کے لیے فعال سفارتی کوششوں میں مصروف رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مؤثر ثالثی اور امریکا کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات کے باعث واشنگٹن کیلئے نئی دہلی پر مکمل انحصار کرنا اب پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے آغاز سے ہی پاکستان جنگ بندی کے لیے سرگرم رہا اور اس سلسلے میں سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی اور ایرانی حکام سے مسلسل رابطے برقرار رکھے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے، جبکہ ٹرمپ متعدد مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کر چکے ہیں۔
ادھر بھارتی میڈیا اور اپوزیشن حلقوں میں وزیراعظم نریندر مودی کو سفارتی سطح پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے، جسے ماہرین خطے میں بدلتی سفارتی حرکیات سے جوڑ رہے ہیں۔
دیکھئیے:آبنائے ہرمز میں بھارتی جہازوں پر فائرنگ؛ بھارت کا ایران سے شدید احتجاج، نئی دہلی میں سفیر طلب