اسلام آباد: اسلام آباد میں ایچ آئی وی کے مبینہ پھیلاؤ سے متعلق میڈیا رپورٹس کو حکام نے گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صورتحال کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور کسی قسم کے اچانک پھیلاؤ یا وبا کے شواہد موجود نہیں ہیں۔
وزارتِ قومی صحت کے تحت کام کرنے والے کامن مینجمنٹ یونٹ (سی ایم یو) برائے ایڈز، ٹی بی اور ملیریا نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس میں جن اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا، وہ دراصل گزشتہ 15 ماہ کے دوران اسلام آباد میں ایچ آئی وی علاج مراکز پر رجسٹر ہونے والے نئے مریضوں کی مجموعی تعداد ہے، نہ کہ کسی حالیہ یا اچانک پھیلاؤ کی علامت۔
حکام کے مطابق جنوری 2025 سے مارچ 2026 تک مجموعی طور پر 618 نئے مریض رجسٹر ہوئے، جبکہ ماہانہ بنیاد پر کیسز کی تعداد عمومی طور پر 30 سے 60 کے درمیان رہی، جو کہ معمول کے رجحان کے مطابق ہے۔
وضاحت میں کہا گیا کہ ماہانہ بنیاد پر معمولی اتار چڑھاؤ صحت کے نظام میں بہتری، ٹیسٹنگ سہولیات تک رسائی، آگاہی مہمات اور بہتر کیس شناخت کا نتیجہ ہو سکتا ہے، اسے کسی وبا یا غیر معمولی صورتحال سے جوڑنا درست نہیں۔
مزید بتایا گیا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور پولی کلینک اسپتال جیسے بڑے سرکاری مراکز نہ صرف اسلام آباد بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے مریضوں کو بھی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس وجہ سے رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار میں دیگر علاقوں کے مریض بھی شامل ہوتے ہیں، جو اسلام آباد میں ایچ آئی وی کے اصل پھیلاؤ کی درست عکاسی نہیں کرتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافہ دراصل صحت کے نظام کی بہتری اور مریضوں کی بروقت تشخیص کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، جو ایک مثبت پیشرفت سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس سے مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکتا ہے۔
وزارت صحت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق اسلام آباد میں ایچ آئی وی کا کوئی غیر معمولی پھیلاؤ یا ہنگامی صورتحال موجود نہیں ہے، اور قومی سطح پر اس بیماری کے تدارک کے لیے اقدامات مؤثر انداز میں جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق صحت سے متعلق اعداد و شمار کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ غلط تشریح سے عوام میں غیر ضروری خوف و ہراس پھیل سکتا ہے۔