اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تقریباً 45 منٹ جاری رہنے والی اس گفتگو میں وزیراعظم نے ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطحی وفد بھیجا، جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی تھی۔
Below is PMO press release on phone contact between Pakistan PM and Iran President. No mention of who would be participating in second round of talks from Iran.
— Azhar Abbas (@AzharAbbas3) April 19, 2026
Islamabad: Prime Minister Shehbaz Sharif Holds Telephone Conversation with President of the Islamic Republic of Iran… pic.twitter.com/jOshFVWj9x
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ان روابط سے خطے میں امن کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کے عمل کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی مثبت بات چیت پر بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کے تعاون سے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی امن کوششوں اور کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔
تاہم اعلامیے میں ایک اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ ایران کی جانب سے آئندہ مذاکراتی دور میں شرکت کرنے والے وفد یا اس کی قیادت کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اس خاموشی کے باعث سفارتی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ دوسرے مرحلے میں ایرانی نمائندگی کی سطح کیا ہوگی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا ایران مذاکرات کے اگلے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور پاکستان ایک بار پھر اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، تاہم ایرانی وفد کی تشکیل سے متعلق ابہام برقرار ہے۔