افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے موجودہ طالبان حکومت کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کر دیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق حکمت یار نے واضح کیا کہ افغانستان کے موجودہ حالات ہرگز عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہیں اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
آئینی ڈھانچے کی عدم موجودگی پر اعتراض
سابق وزیراعظم نے طالبان قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام میں آئین اور شوریٰ جیسے بنیادی عناصر سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی پائیدار سیاسی استحکام کے لیے عوام کی رائے کو شامل کرنا ضروری ہے، بصورتِ دیگر ملک میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال مزید بڑھے گی۔ گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی ڈھانچہ افغان عوام کی حقیقی عکاسی کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سیاسی جماعتوں کا ردِعمل
دوسری جانب افغان سیاسی جماعت ‘حزبِ وحدت اسلامی’ نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونِ ملک موجود سیاسی قائدین اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک عوامی مینڈیٹ پر مبنی نظام قائم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ اگر حالات تبدیل نہ ہوئے تو مستقبل میں پیدا ہونے والے کسی بھی بڑے بحران کی تمام تر ذمہ داری طالبان پر عائد ہوگی۔
ماہرین کی رائے
سیاسی مبصرین کے مطابق، طالبان حکومت کے آمرانہ رویے اور سخت گیر پالیسیوں کے باعث اب افغانستان کے اندر سے بھی نظام کی تبدیلی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ گلبدین حکمت یار کا یہ حالیہ بیان طالبان انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: تاجکستان میں سرحدی کارروائی: افغانستان سے داخل ہونے والے 2 منشیات اسمگلر ہلاک