کابل:خبر رساں ادارے ایچ ٹی این کے ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی عبوری حکومت نے بیجنگ کے مسلسل مطالبات اور خیر سگالی کے طور پر پاکستان کے سرحدی علاقوں اور نورستان، کنڑ اور چترال کے بارڈر پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 100 سے زائد مسلح ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ان گرفتاریوں کا مقصد چین کو یہ یقین دہانی کروانا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے جنگجوؤں کو اس بار کابل کی بدنام زمانہ پل چرخی جیل منتقل کرنے کے بجائے افغان انٹیلی جنس ادارے ’جی ڈی آئی‘ کے زیر انتظام خصوصی عمارتوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین خطے میں اپنے منصوبوں، خصوصاً سی پیک کی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کر رہا تھا۔ چین نے بارہا افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف عملی اقدامات کریں۔ حالیہ گرفتاریاں اس سفارتی دباؤ کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ افغان طالبان اب خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنے بین الاقوامی وعدوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق نورستان، کنڑ اور پاکستان کے ضلع چترال کے سنگم پر ہونے والا یہ کریک ڈاؤن ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھکا ثابت ہو سکتا ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی ان کارروائیوں پر پاکستانی حکام طویل عرصے سے کابل سے شکایات کر رہے تھے، اور اب ان گرفتاریوں کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دفاعی مبصرین اور علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت اقتصادی وجوہات کی بنا پر چین کو ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو جی ڈی آئی کی تحویل میں رکھنا اس بات کی علامت ہے کہ ان کی نقل و حرکت پر اب سخت نظر رکھی جائے گی، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ گرفتاریاں کسی بڑے فوجی آپریشن کا پیش خیمہ ہیں یا صرف سفارتی دباؤ کم کرنے کا ایک عارضی حل۔
دیکھئیے:بنوں: سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر وحید اللہ خودکش بمبار سمیت ہلاک