حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ: عید کے بعد سے اب تک 52 پاکستانی شہری شہید، دفترِ خارجہ

دفترِ خارجہ نے عید الفطر کے بعد سے افغان طالبان کی سرحد پار فائرنگ سے 52 پاکستانی شہریوں کی شہادت اور 84 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جارحیت؛ عید کے بعد سے اب تک 52 شہری شہید اور 84 زخمی۔ دفترِ خارجہ نے شہری آبادی پر اندھا دھند گولہ باری کی سخت مذمت کی ہے۔

May 2, 2026

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے جاری بلااشتعال جارحیت اور شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانے کے ہولناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، 21 مارچ 2026 سے اب تک افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں 52 معصوم پاکستانی شہری شہید جبکہ 84 زخمی ہو چکے ہیں۔

امن کوششوں کی نفی اور مسلسل جارحیت

ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر عسکری کارروائیوں میں وقفے کے باوجود، افغان طالبان نے اپنی اشتعال انگیزی میں کوئی کمی نہیں کی اور بغیر کسی روک ٹوک کے جارحانہ اقدامات جاری رکھے۔ یہ طرزِ عمل طالبان حکومت کی جانب سے علاقائی امن کی کوششوں سے مکمل لاتعلقی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

شہری آبادی پر حملے

رپورٹ کے مطابق، یہ واقعات محض چند اتفاقی یا الگ تھلگ حادثات نہیں ہیں، بلکہ یہ شہری آبادی کے خلاف ایک مسلسل مہم کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے معصوم شہریوں، گھروں اور آبادیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان حملوں کی بھاری انسانی قیمت ان خاندانوں کو چکانی پڑ رہی ہے جو اپنے پیاروں کی شہادتوں اور زخمی ہونے کے باعث کرب کا شکار ہیں۔

علاقائی عدم استحکام اور دہشت گردی کی سرپرستی

تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے سرحد پار تشدد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ معاند عناصر کو پناہ فراہم کرنا اور سرحد پر مسلح گروہ کی طرح رویہ اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کابل انتظامیہ ایک ذمہ دار حکومت کے بجائے تشدد کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

پاکستانی مؤقف

پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ طالبان کی جانب سے سفاکانہ طرزِ عمل اور معصوم شہریوں کو بار بار نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ افغان طالبان خطے میں امن کے بجائے انتشار کے فروغ میں مصروف ہیں۔

متعلقہ مضامین

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *