افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

پشتونوں کو نوآبادیاتی قوم قرار دینے کا بیانیہ سیاسی تحریف ہے؛ پاکستان ایک آئینی وفاق ہے جہاں تمام اقوام برابر کی شریک ہیں۔

August 10, 2026

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔

August 10, 2026

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اکثر مطالبات منظور کیے جانے کے بعد، مہاجرین کی نشستوں پر تنازع نے احتجاجی تحریک کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔

August 10, 2026

بارہ برس، تین حکومتیں اور ریکارڈ بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا میں 47 لاکھ بچے اسکول سے باہر، صاف پانی کی سہولت محدود اور صحت کارڈ مالی بحران کا شکار ہے۔

August 10, 2026

افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ: عید کے بعد سے اب تک 52 پاکستانی شہری شہید، دفترِ خارجہ

دفترِ خارجہ نے عید الفطر کے بعد سے افغان طالبان کی سرحد پار فائرنگ سے 52 پاکستانی شہریوں کی شہادت اور 84 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جارحیت؛ عید کے بعد سے اب تک 52 شہری شہید اور 84 زخمی۔ دفترِ خارجہ نے شہری آبادی پر اندھا دھند گولہ باری کی سخت مذمت کی ہے۔

May 2, 2026

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے جاری بلااشتعال جارحیت اور شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانے کے ہولناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، 21 مارچ 2026 سے اب تک افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں 52 معصوم پاکستانی شہری شہید جبکہ 84 زخمی ہو چکے ہیں۔

امن کوششوں کی نفی اور مسلسل جارحیت

ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ 2026 میں پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر عسکری کارروائیوں میں وقفے کے باوجود، افغان طالبان نے اپنی اشتعال انگیزی میں کوئی کمی نہیں کی اور بغیر کسی روک ٹوک کے جارحانہ اقدامات جاری رکھے۔ یہ طرزِ عمل طالبان حکومت کی جانب سے علاقائی امن کی کوششوں سے مکمل لاتعلقی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

شہری آبادی پر حملے

رپورٹ کے مطابق، یہ واقعات محض چند اتفاقی یا الگ تھلگ حادثات نہیں ہیں، بلکہ یہ شہری آبادی کے خلاف ایک مسلسل مہم کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے معصوم شہریوں، گھروں اور آبادیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان حملوں کی بھاری انسانی قیمت ان خاندانوں کو چکانی پڑ رہی ہے جو اپنے پیاروں کی شہادتوں اور زخمی ہونے کے باعث کرب کا شکار ہیں۔

علاقائی عدم استحکام اور دہشت گردی کی سرپرستی

تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے سرحد پار تشدد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ معاند عناصر کو پناہ فراہم کرنا اور سرحد پر مسلح گروہ کی طرح رویہ اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کابل انتظامیہ ایک ذمہ دار حکومت کے بجائے تشدد کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

پاکستانی مؤقف

پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ طالبان کی جانب سے سفاکانہ طرزِ عمل اور معصوم شہریوں کو بار بار نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام آپشنز استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ افغان طالبان خطے میں امن کے بجائے انتشار کے فروغ میں مصروف ہیں۔

متعلقہ مضامین

افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

پشتونوں کو نوآبادیاتی قوم قرار دینے کا بیانیہ سیاسی تحریف ہے؛ پاکستان ایک آئینی وفاق ہے جہاں تمام اقوام برابر کی شریک ہیں۔

August 10, 2026

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔

August 10, 2026

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *