راولپنڈی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت 275ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔ فورم نے مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کانفرنس کے دوران علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی اور جیو پولیٹیکل صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آرمی چیف نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں، جنگی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری کارروائیوں کو سراہا۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آپریشن غضب للحق کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا تاکہ پاکستان کی سرزمین کو شر انگیز کارروائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
فورم نے افغان طالبان رجیم کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ خوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں جو کہ افغان عوام کے مفادات کے منافی ہے۔ افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان پر افغان سرزمین کے اندر شہریوں کو نشانہ بنانے کے جھوٹے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے فورم نے اسے ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم قرار دیا، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔
کانفرنس کے دوران فیلڈ مارشل نے “معرکۂ حق” کا یادگار سال مکمل ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معرکہ قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور پاکستان کی خودمختاری کے غیر متزلزل تحفظ کے عہد کی عکاسی کرتا ہے۔
فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم کی شدید مذمت کی اور کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اختتام پر آرمی چیف نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ ابھرتے ہوئے چیلنجز کے پیشِ نظر مستعدی اور آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھیں۔