کوئٹہ: بلوچستان میں حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف بیانیہ پروان چڑھانے والی تنظیم ‘بلوچ یکجہتی کمیٹی’ کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب تنظیم کی پنجگور کی سابق صدر ادیبہ ظہیر نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے سنگین انکشافات کیے۔ ادیبہ ظہیر کا اعترافی بیان اس بات کی تازہ ترین گواہی ہے کہ کس طرح بی وائی سی کے پلیٹ فارم کو نوجوانوں خصوصاً خواتین کے ذہنوں میں ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف نفرت بھرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ادیبہ ظہیر نے اعتراف کیا کہ وہ بی وائی سی کے جلسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں اور ریاستی اداروں کے خلاف جذباتی نعرہ بازی کا حصہ بنیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کے اندر نوجوانوں کو اشتعال انگیز بیانیے کے تحت متحرک کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ریاست سے دور کیا جا سکے۔ اپنی سابقہ سرگرمیوں پر شدید ندامت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وہ اس انتشاری سیاست کا مزید حصہ نہیں رہ سکتیں اور آئینی و قومی دھارے میں رہ کر ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بی وائی سی کی کسی خاتون عہدیدار نے تنظیم کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہوں۔ اس سے قبل لائبہ اور رحیمہ کے بیانات بھی منظرِ عام پر آ چکے ہیں، جن میں بی وائی سی کے ذریعے نوجوان خواتین کی مبینہ ‘ریڈیکلائزیشن’ اور کالعدم بی ایل اے کی جانب سے خواتین کو علامتی اور عملی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ ادیبہ ظہیر کی گواہی ان تمام خدشات کو سچ ثابت کر رہی ہے کہ احتجاجی سیاست کے پردے میں نوجوانوں کو ایک منظم پراکسی جنگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔
سیاسی و دفاعی مبصرین ادیبہ ظہیر کی پریس کانفرنس کو بلوچستان میں بدلتی ہوئی فضا اور شدت پسند بیانیوں سے عوامی لاتعلقی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یکے بعد دیگرے خواتین رہنماؤں کا ان انتشاری نیٹ ورکس سے الگ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کا نوجوان اب حقیقت کو سمجھ چکا ہے اور وہ بیرونی ایجنڈوں پر مبنی سیاست کے بجائے ترقی اور قومی یکجہتی کے راستے کو ترجیح دے رہا ہے۔ یہ اعترافات ثابت کرتے ہیں کہ انتشاری بیانیہ اب اپنی موت آپ مر رہا ہے۔
دیکھئیے:لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں بم دھماکہ، 7 افراد شہید اور متعدد زخمی