"> تنقید برائے تنقید: مشاہد حسین کی جانب سے ملکی کامیابیوں کو کم تر دکھانے کی کوشش، قوم عملی روڈ میپ کی منتظر - HTN Urdu تنقید برائے تنقید: مشاہد حسین کی جانب سے ملکی کامیابیوں کو کم تر دکھانے کی کوشش، قوم عملی روڈ میپ کی منتظر
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

تنقید برائے تنقید: مشاہد حسین کی جانب سے ملکی کامیابیوں کو کم تر دکھانے کی کوشش، قوم عملی روڈ میپ کی منتظر

اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنقید کرنے والوں کے پاس اپنا کیا منصوبہ ہے؟ معاشی بحالی کے لیے ان کا عملی روڈ میپ کہاں ہے؟ اور سیاسی تقسیم کو کم کرنے کے لیے انہوں نے کون سا قابلِ عمل فارمولا پیش کیا ہے؟ محض ری سائیکل شدہ جملوں اور ڈرائنگ روم پولیٹکس سے قوم کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔
مشاہد حسین کی مایوسی

مشاہد حسین صاحب کئی دہائیوں سے سیاست کے ایوانوں میں موجود رہے ہیں، لیکن ہیلنگ ٹچ کے نام پر ان کا اب تک کا کردار صرف تبصروں، تنقید اور عوامی لیکچرز تک ہی محدود دکھائی دیتا ہے۔

May 12, 2026

اسلام آباد: سینیٹر مشاہد حسین سید کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے پاکستان کی دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کو اندرونی معاشی و سیاسی چیلنجز سے متصادم قرار دیا ہے، سنجیدہ حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مشاہد حسین کا یہ مؤقف دراصل گہرا تجزیہ نہیں بلکہ “یکطرفہ مایوسی” ہے، جسے دانشوری کا لبادہ پہنایا گیا ہے۔ بلاشبہ پاکستان کو معاشی مضبوطی اور سیاسی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، مگر ہر بڑی کامیابی کے بعد محض مایوسی پھیلانا اور کوئی قابلِ عمل راستہ یا روڈ میپ پیش نہ کرنا قومی خدمت کے زمرے میں نہیں آتا۔

مشاہد حسین صاحب کئی دہائیوں سے سیاست کے ایوانوں میں موجود رہے ہیں، لیکن ہیلنگ ٹچ کے نام پر ان کا اب تک کا کردار صرف تبصروں، تنقید اور عوامی لیکچرز تک ہی محدود دکھائی دیتا ہے۔ یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنقید کرنے والوں کے پاس اپنا کیا منصوبہ ہے؟ معاشی بحالی کے لیے ان کا عملی روڈ میپ کہاں ہے؟ اور سیاسی تقسیم کو کم کرنے کے لیے انہوں نے کون سا قابلِ عمل فارمولا پیش کیا ہے؟ محض ری سائیکل شدہ جملوں اور ڈرائنگ روم پولیٹکس سے قوم کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں دفاع اور سفارت کاری کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو دوبارہ منوایا ہے۔ جو لوگ اب ان کامیابیوں کو معیشت کے نام پر کمزور دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ تنقید کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بند کریں اور عملی حل سامنے لائیں۔ سنجیدہ قیادت صرف خامیاں تلاش نہیں کرتی بلکہ پالیسی اور راستہ دیتی ہے۔ تنقید بغیر کسی متبادل منصوبے کے دانائی نہیں بلکہ محض سیاسی شور ہے، اور پاکستان کو اس وقت خالی باتوں کی نہیں بلکہ قومی اعتماد اور تعمیری آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔

دیکھئیے:عوامی ریلیف پر سیاسی جنون غالب: خیبر پختونخوا میں ‘گورننس’ کے بجائے ‘احتجاج’ کا راج؛ سہیل آفریدی حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *