اسلام آباد: پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار کے حالیہ بیان نے ملک بھر میں ایک نیا بحث اور سیکیورٹی خدشات کا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ شاندانہ گلزار نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا سے پولیس اور فوج کو تین ماہ کے لیے نکال دیا جائے تاکہ وہاں امن قائم ہو سکے۔ اس بیان کو سیاسی حلقوں میں غیر منطقی اور قومی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین اور سابق وفاقی وزراء نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے سیاسی نادانی کی انتہا قرار دیا ہے۔ فواد چوہدری نے اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ اگر فوج اور پولیس نے خیبر پختونخوا چھوڑ دیا تو وہاں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں بھارتی اور افغان ایجنسیاں صوبے میں تباہی مچا دیں گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت سے مطالبہ کیا کہ ایسی غیر سنجیدہ گفتگو کرنے والوں کو روکا جائے۔
شاندانہ گلزار کا یہ موقف دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار فورسز اور شہداء کی قربانیوں کی توہین سمجھا جا رہا ہے۔ جس صوبے میں پولیس جوان روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں وہاں اداروں کے انخلاء کی بات کرنا دہشت گردوں کو کھلا راستہ دینے کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی نے برسوں صوبے میں حکومت کی مگر امن و امان کی بہتری کے بجائے اب وہ ریاستی اداروں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ امن نعروں اور جذباتی بیانات سے نہیں بلکہ مضبوط ریاستی حکمت عملی اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے آتا ہے۔ شاندانہ گلزار کا بیان کسی سیاسی شعور کے بجائے حواس باختگی کی علامت معلوم ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کو اس وقت انتشار پھیلانے والے بیانات کی نہیں بلکہ بہتر گورننس اور مضبوط سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔
دیکھئیے:افغان حکومت بھارت کی پراکسی بن چکی ہے، کابل کو دہلی جیسا ردعمل مل سکتا ہے، خواجہ آصف