"> شاندانہ گلزار کی سیاسی حواس باختگی یا دہشت گردوں کی سہولت کاری؟ فواد چوہدری کا کے پی سے فوج نکالنے کے مطالبے پر شدید ردعمل - HTN Urdu شاندانہ گلزار کی سیاسی حواس باختگی یا دہشت گردوں کی سہولت کاری؟ فواد چوہدری کا کے پی سے فوج نکالنے کے مطالبے پر شدید ردعمل
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

شاندانہ گلزار کی سیاسی حواس باختگی یا دہشت گردوں کی سہولت کاری؟ فواد چوہدری کا کے پی سے فوج نکالنے کے مطالبے پر شدید ردعمل

فواد چوہدری نے اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ اگر فوج اور پولیس نے خیبر پختونخوا چھوڑ دیا تو وہاں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں بھارتی اور افغان ایجنسیاں صوبے میں تباہی مچا دیں گی۔
شاندانہ گلزار پر تنقید

شاندانہ گلزار کا یہ موقف دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار فورسز اور شہداء کی قربانیوں کی توہین سمجھا جا رہا ہے۔

May 13, 2026

اسلام آباد: پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار کے حالیہ بیان نے ملک بھر میں ایک نیا بحث اور سیکیورٹی خدشات کا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ شاندانہ گلزار نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا سے پولیس اور فوج کو تین ماہ کے لیے نکال دیا جائے تاکہ وہاں امن قائم ہو سکے۔ اس بیان کو سیاسی حلقوں میں غیر منطقی اور قومی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین اور سابق وفاقی وزراء نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے سیاسی نادانی کی انتہا قرار دیا ہے۔ فواد چوہدری نے اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ اگر فوج اور پولیس نے خیبر پختونخوا چھوڑ دیا تو وہاں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں بھارتی اور افغان ایجنسیاں صوبے میں تباہی مچا دیں گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت سے مطالبہ کیا کہ ایسی غیر سنجیدہ گفتگو کرنے والوں کو روکا جائے۔

شاندانہ گلزار کا یہ موقف دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار فورسز اور شہداء کی قربانیوں کی توہین سمجھا جا رہا ہے۔ جس صوبے میں پولیس جوان روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں وہاں اداروں کے انخلاء کی بات کرنا دہشت گردوں کو کھلا راستہ دینے کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی نے برسوں صوبے میں حکومت کی مگر امن و امان کی بہتری کے بجائے اب وہ ریاستی اداروں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ امن نعروں اور جذباتی بیانات سے نہیں بلکہ مضبوط ریاستی حکمت عملی اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے آتا ہے۔ شاندانہ گلزار کا بیان کسی سیاسی شعور کے بجائے حواس باختگی کی علامت معلوم ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کو اس وقت انتشار پھیلانے والے بیانات کی نہیں بلکہ بہتر گورننس اور مضبوط سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔

دیکھئیے:افغان حکومت بھارت کی پراکسی بن چکی ہے، کابل کو دہلی جیسا ردعمل مل سکتا ہے، خواجہ آصف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *