ملک میں بدامنی پھیلانے والا گروہ فتنہ الخوارج درحقیقت دہشت گردوں کا ایک ایسا جتھہ ہے جس کا دینِ اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ حالیہ شواہد اور ان کی سرگرمیوں سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ یہ گروہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سنگین مالی جرائم اور انسانیت سوز مظالم میں ملوث ہے۔
مذہبی لبادہ اور مالی مفادات
فتنہ الخوارج کے کارندے خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال اسلامی احکامات کے سراسر منافی ہیں۔ یہ گروہ چوری، ڈاکہ زنی، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری جیسے جرائم کو اپنے مالی مفادات کے حصول کے لیے بلا دریغ استعمال کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے کہ شہید کا قرض بھی معاف نہیں ہوتا، تو پھر یہ لوگ معصوم شہریوں کے مال کو لوٹ کر اور بینکوں میں ڈاکہ ڈال کر خود کو حق پر کیسے تصور کر سکتے ہیں؟
دینی و اخلاقی اقدار کی پامالی
اس دہشت گرد ٹولے کے لیے حلال و حرام کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔ یہ اپنے مالی مقاصد کی خاطر تمام دینی، اخلاقی اور انسانی اقدار و تقدسات کو پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ دہشت گردی اور خونریزی کو انہوں نے ایک کاروبار کی شکل دے دی ہے، جہاں معصوم انسانوں کا خون بہانا ان کے لیے محض ایک ذریعہ معاش بن چکا ہے۔
فتنۂ خوارج کے ڈاکو، چور اور لٹیرے خود کو مسلمان سمجھتے ہیں اور عوام کے مال کو بے دریغ لوٹتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے کہ شہید کو بھی لوگوں کا مال معاف نہیں کیا جاتا۔ پھر یہ کیسے خود کو حق پر سمجھتے ہیں بینکوں کی لوٹ مار کرتے ہیں، اغوا برائے تاوان کرتے ہیں اور معصوم… pic.twitter.com/QN82PLaMne
— سید عدنان بادشاہ 🇵🇰 (@syed_bacha) May 15, 2026
جرائم کا پلیٹ فارم
تحقیقاتی ذرائع اور درج بالا ویڈیو کے مطابق فتنہ الخوارج کا پلیٹ فارم اب صرف عسکری کاروائیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ باقاعدہ ایک مجرمانہ نیٹ ورک بن چکا ہے۔ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے ذریعے جمع کی جانے والی رقوم دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جو ان کے نام نہاد نظریاتی ایجنڈے کے پیچھے چھپے اصل مجرمانہ چہرے کو بے نقاب کرتی ہیں۔
خونریزی اور ظلم کا بیانیہ
فتنہ الخوارج نے ظلم اور بربریت کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی حرمت نہیں اور یہ اپنے مالی فوائد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ علمائے کرام اور مذہبی حلقوں نے بھی اس امر کی وضاحت کی ہے کہ اسلام میں معصوم شہریوں کا مال لوٹنا اور خون بہانا جہنم کا راستہ ہے، اور اس گروہ کا اسلام کی پرامن تعلیمات سے کوئی واسطہ نہیں۔