فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈر کے حالیہ اعترافی بیان نے افغان طالبان کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے جن میں وہ مسلسل افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کا راگ الاپتے رہے ہیں۔ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے فتنہ الخوارج کمانڈر ملنگ بچہ کے آڈیو پیغام نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی ڈوریاں براہِ راست افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں سے ہلائی جا رہی ہیں۔
اعتراف اور سرحد پار تعلق
باجوڑ ڈسٹرکٹ کے کمانڈر ملنگ بچہ نے ڈمانگی کیمپ پر ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ کارروائی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں پاکستان کی جانب سے کی گئی حالیہ انسدادِ دہشت گردی کاروائیوں کا ردِعمل تھی۔ اس بیان نے ان تمام شکوک و شبہات کو ختم کر دیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے سرحد پار بیٹھے دہشت گردوں سے ملتے ہیں۔
طالبان کے دعوؤں کی نفی
یہ اعتراف طالبان حکومت کے ان بار بار کیے جانے والے دعوؤں کو مکمل طور پر جھٹلا دیتا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ فتنہ الخوارج کمانڈر کے بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ طالبان کے زیرِ اثر کنڑ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کا ایک مکمل انفراسٹرکچر موجود ہے، جسے پاکستان میں خونریزی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دہشت گردوں کا گڑھ
رپورٹس کے مطابق افغانستان کا صوبہ کنڑ اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقے اس وقت تحریک طالبان پاکستان، داعش اور فتنہ الخوارج جیسے عناصر کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہیں بن چکے ہیں۔ یہی وہ مراکز ہیں جہاں سے دہشت گردوں کو لاجسٹک مدد، عسکری تربیت اور پاکستان کے اندر حملوں کے لیے آپریشنل ہدایات فراہم کی جاتی ہیں۔
رپورٹس اور زمینی حقائق
اسی طرح اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹس بھی اس حقیقت کی تصدیق کر چکی ہیں کہ طالبان دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی اور اس کے الحاقی گروہوں کو غیر معمولی سہولت کاری حاصل ہے۔ ان گروہوں کے لیے افغانستان میں مہمان خانے، نقل و حرکت کے اجازت نامے اور مالی معاونت کے ڈھانچے موجود ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف سال 2025 کے دوران افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والے فک نیٹ ورکس نے پاکستان پر 600 سے زائد دہشت گرد حملے کیے۔
طالبان کا دوہرا معیار
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال طالبان کے ’دوہرے طرزِ عمل‘ کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایک طرف کابل انتظامیہ عالمی برادری کو غیر جانبداری کا یقین دلاتی ہے، تو دوسری طرف پاکستان مخالف دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ اور تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی انسدادِ دہشت گردی کاروائیاں درحقیقت انہی ٹھکانوں اور لاجسٹک حبس کو نشانہ بناتی ہیں جو افغان سرحد کے اندر سے پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔