خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ ادریس صاحب کے قتل کے پیچھے چھپے محرکات اور اصل کرداروں کا سراغ مل گیا ہے۔ فتنہ الخوارج کے نائب امیر برجان اور ایک ٹارگٹ کلر کے درمیان ہونے والی ٹیلی فون کال کی ریکارڈنگ منظر عام پر آگئی ہے، جس میں شیخ ادریس رح کو نشانہ بنانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی اور اس کے پس پردہ وجوہات کی تفصیلات موجود ہیں۔
قتل کی منصوبہ بندی
لیک شدہ آڈیو کال میں برجان نامی خارجی کمانڈر کو ٹارگٹ کلر کو واضح ہدایات دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ گفتگو سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مولانا ادریس کو محض اس بنیاد پر نشانہ بنایا گیا کہ وہ ریاست پاکستان، پاک فوج اور ملک کی سیاسی قیادت کے حق میں بیانات دیتے تھے اور دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار اداروں کی حمایت کرتے تھے۔ خوارج کے اس کمانڈر نے ہر صورت شیخ ادریس کو قتل کرنے پر زور دیا، جس کے لیے مبینہ طور پر ایک ملین ڈالر کی خطیر رقم بھی مقرر کی گئی تھی۔
دہشت گرد گروہوں کا نام بدلنا
اس واقعے کا سب سے اہم پہلو دہشت گرد تنظیموں کی وہ حکمت عملی ہے جس کے تحت وہ واردات کے بعد اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر شیخ ادریس کے قتل کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی ہے، لیکن لیک ہونے والی آڈیو کال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ کاروائی دراصل فتنہ الخوارج نے انجام دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں عوام کو گمراہ کرنے اور عالمی دباؤ سے بچنے کے لیے مختلف ناموں کا استعمال کرتی ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ تمام گروہ ایک ہی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
طالبان اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ
تحقیقاتی ذرائع اور دستیاب شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ تمام دہشت گرد گروہ آپس میں منظم ہیں اور انہیں افغان طالبان کی جانب سے فنڈنگ اور مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ سرحد پار سے ملنے والی یہ سرپرستی پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے اور جید علما کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، تاکہ معاشرے میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔
علماء اور انسانیت دشمن
آڈیو لیک نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فتنہ الخوارج اور اس کے حواری کسی مذہب یا نظریے کے پیروکار نہیں بلکہ خالصتاً اسلام اور انسانیت دشمن ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ ان کا مقصد ان آوازوں کو خاموش کرنا ہے جو ملک میں امن، اتحاد اور آئین کی حکمرانی کی بات کرتی ہیں۔ اس انکشاف کے بعد سکیورٹی اداروں نے اپنا گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے باقی ماندہ عناصر کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔