اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کے موضوع پر منعقدہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شہریوں کا تحفظ محض ہمدردی کا اشارہ نہیں بلکہ ایک لازمی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے چین کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں غزہ، سوڈان اور بلخصوص بھارت کے ناجائز زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے شہری طویل عرصے سے اپنے حقوق، وقار اور حقِ خودارادیت سے محروم رکھے گئے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا تنازعہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، جہاں نہتے شہری بدترین فوجی تسلط، من مانی نظربندیوں، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کا سامنا کر رہے ہیں۔
Remarks by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad, Permanent Representative of Pakistan,
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) May 21, 2026
At the Security Council Open Debate on Protection of Civilians in Armed Conflict
(20 May 2026)
*****
Mr. President,
We thank the Chinese Presidency for convening this important debate. We also… pic.twitter.com/xWjR0UIPn9
انہوں نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مقبوضہ وادی میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سمیت 2,800 افراد کو حراست میں لیا گیا، مکانات مسمار کیے گئے اور ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کر کے کشمیریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اقوام متحدہ میں متعین سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ دنیا میں اس وقت قوانین کا نہیں بلکہ احتساب، سیاسی عزم اور دہرے معیار کا بحران ہے۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ کے لیے کونسل کے سامنے 5 اہم ترجیحات پیش کیں: اول یہ کہ بین الاقوامی انسانی قوانین پر بغیر کسی دہرے معیار کے عمل کیا جائے؛ دوم یہ کہ شہریوں پر حملوں، جبری نقل مکانی اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والوں کا سخت احتساب ہو؛ سوم یہ کہ متاثرہ علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فوری اور بلاروک ٹوک فراہمی یقینی بنائی جائے؛ چہارم یہ کہ کونسل تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دے؛ اور پنجم یہ کہ ڈرونز، سائبر ٹولز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس جیسی نئی ٹیکنالوجیز کو شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے سے روکا جائے۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
دیکھیے: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بھارتی پراکسی گروہ قرار