پشاور کے علاقے حسن خیل میں خوارج دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے فیڈرل کانسٹیبلری کے 6 اہلکار شہید ہو گئے، جن کی نمازِ جنازہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔

June 10, 2026

پاکستان نے افغانستان کے صوبوں کنڑ، پکتیکا اور خوست میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر درست کاروائیاں کی ہیں، جبکہ افغان طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو گمراہ کن قرار دے دیا گیا ہے۔

June 10, 2026

خواجہ آصف نے سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور لاشوں کی بے حرمتی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کے ذریعے ماورائے قانون ایجنڈا مسلط کرنے والوں سے ریاست پوری قوت کے ساتھ نمٹے گی۔

June 10, 2026

افغانستان کے صوبہ ہرات کے علاقے جبرائیل میں خواتین کی من مانی گرفتاریوں اور لازمی حجاب پالیسی کے خلاف ہونے والے پُرامن احتجاج پر طالبان اہلکاروں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں بچے سمیت متعدد شہری زخمی ہو گئے۔

June 9, 2026

مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران را اور فتنۃ الخوارج سے منسلک 5 کارندے گرفتار کر لیے گئے، جن کے قبضے سے نقشے اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

June 9, 2026

ٹام لینٹوس کمیشن کے بیان پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری مقدمہ پیکا قوانین کے تحت سائبر دہشت گردی سے متعلق ہے، جس میں عدالتی خودمختاری اور قومی سلامتی کا احترام ناگزیر ہے۔

June 9, 2026

عالمی قوانین میں دہرا معیار ختم کیا جائے، کشمیری 7 دہائیوں سے بھارتی جبر کا شکار ہیں: پاکستان

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں کہا کہ عالمی قوانین واضح ہیں مگر اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد اور احتساب کی کمی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں مباحثے کے دوران مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کا مقدمہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی قوانین واضح ہیں مگر اصل بحران ان پر عملدرآمد اور احتساب کا نہ ہونا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کے لیے 5 نکاتی ترجیحات پیش کر دیں۔

May 21, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کے موضوع پر منعقدہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شہریوں کا تحفظ محض ہمدردی کا اشارہ نہیں بلکہ ایک لازمی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے چین کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں غزہ، سوڈان اور بلخصوص بھارت کے ناجائز زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے شہری طویل عرصے سے اپنے حقوق، وقار اور حقِ خودارادیت سے محروم رکھے گئے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا تنازعہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، جہاں نہتے شہری بدترین فوجی تسلط، من مانی نظربندیوں، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مقبوضہ وادی میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سمیت 2,800 افراد کو حراست میں لیا گیا، مکانات مسمار کیے گئے اور ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کر کے کشمیریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ میں متعین سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ دنیا میں اس وقت قوانین کا نہیں بلکہ احتساب، سیاسی عزم اور دہرے معیار کا بحران ہے۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ کے لیے کونسل کے سامنے 5 اہم ترجیحات پیش کیں: اول یہ کہ بین الاقوامی انسانی قوانین پر بغیر کسی دہرے معیار کے عمل کیا جائے؛ دوم یہ کہ شہریوں پر حملوں، جبری نقل مکانی اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والوں کا سخت احتساب ہو؛ سوم یہ کہ متاثرہ علاقوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فوری اور بلاروک ٹوک فراہمی یقینی بنائی جائے؛ چہارم یہ کہ کونسل تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دے؛ اور پنجم یہ کہ ڈرونز، سائبر ٹولز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس جیسی نئی ٹیکنالوجیز کو شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے سے روکا جائے۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

دیکھیے: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے بھارتی پراکسی گروہ قرار

متعلقہ مضامین

پشاور کے علاقے حسن خیل میں خوارج دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے فیڈرل کانسٹیبلری کے 6 اہلکار شہید ہو گئے، جن کی نمازِ جنازہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔

June 10, 2026

پاکستان نے افغانستان کے صوبوں کنڑ، پکتیکا اور خوست میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر درست کاروائیاں کی ہیں، جبکہ افغان طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو گمراہ کن قرار دے دیا گیا ہے۔

June 10, 2026

خواجہ آصف نے سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور لاشوں کی بے حرمتی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کے ذریعے ماورائے قانون ایجنڈا مسلط کرنے والوں سے ریاست پوری قوت کے ساتھ نمٹے گی۔

June 10, 2026

افغانستان کے صوبہ ہرات کے علاقے جبرائیل میں خواتین کی من مانی گرفتاریوں اور لازمی حجاب پالیسی کے خلاف ہونے والے پُرامن احتجاج پر طالبان اہلکاروں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں بچے سمیت متعدد شہری زخمی ہو گئے۔

June 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *