خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم ویمنز جسٹس موومنٹ (ڈبلیو جے ایم) نے افغانستان کے صوبے ہرات میں طالبان کی اخلاقی پولیس کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کی حالیہ گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم نے اسے افغانستان میں خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد اور ان کے بنیادی حقوق کی منظم پامالی کی ایک اور واضح مثال قرار دیا ہے۔
ایکس پر جاری کردہ ایک باضابطہ بیان میں ویمنز جسٹس موومنٹ کا کہنا تھا کہ ہرات میں طالبان کے حالیہ اقدامات افغان خواتین کی آزادی کو سلب کرنے اور ان پر جبر و استحصال کے سلسلے کی کڑی ہیں۔ تنظیم نے موقف اختیار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں خواتین کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
The arrest of #Women and girls in #Herat by the #Taliban’s morality police is another example of escalating violence and the systematic violation of women’s rights in Afghanistan. The Afghanistan Women’s Justice Movement condemns these actions and calls on people, human rights… pic.twitter.com/7ikRJwJnjQ
— Women’s Justice Movement (@wjmglobal) June 7, 2026
تنظیم نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور عام عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس کڑے وقت میں افغان خواتین کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کریں۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں جاری صنفی امتیاز، خواتین پر ہونے والے جبر اور ان کے حقوق کی پامالی کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر آواز بلند کی جائے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر (اخلاقی پولیس) کے قوانین کے نفاذ کے بعد سے خواتین کے لباس، تعلیم اور عوامی مقامات پر نقل و حرکت کے حوالے سے متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے مسلسل تنقید کی جا رہی ہے۔