نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے افغانستان سے متعلق حالیہ اجلاس میں روس نے ایک بار پھر افغان سرزمیں سے ابھرنے والے دہشت گردی کے خطرات کو تسلیم کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کی نائب مستقل مندوب آنا ایوسٹیگنیوا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس صورتحال کو فتنۃ الخوارج (تحریک طالبان پاکستان) کی دہشت گرد سرگرمیوں سے جوڑا۔ روسی مندوب نے خطے میں داعش خراسان کی مسلسل موجودگی کو بھی علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم اور بڑا خطرہ قرار دیا۔
سلامتی کونسل میں روس کے اس اہم بیان نے پاکستان کے اس دیرینہ اور اصولی مؤقف کی واضح تائید کی ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہے۔
#Evstigneeva: Russia provides ongoing assistance to the Afghan people.
— Russia at the United Nations (@RussiaUN) June 8, 2026
👉We are prepared to expand our partnerships with #Afghanistan across all areas, including regional security issues.
🔗Read in full: https://t.co/AO2uGSSPw8 pic.twitter.com/76VPhGbGwR
روسی مندوب نے واضح الفاظ میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی دراصل تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشت گرد سرگرمیوں کے پس منظر میں پیدا ہو رہی ہے، جو افغان سرزمین کو استعمال کرنے والے اس خوارجی نیٹ ورک کے کردار کا کھلا اعتراف ہے۔
علاوہ ازیں، روس کی جانب سے افغانستان میں داعش خراسان کی مسلسل موجودگی کو ایک سنجیدہ سیکیورٹی خطرہ قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس اب بھی مکمل طور پر فعال ہیں۔
مبصرین کے مطابق، روس کا یہ مؤقف ان تمام دعوؤں کی سختی سے نفی کرتا ہے جن میں افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کے خطرات کو کم کر کے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
روسی مندوب کے اس تجزیے سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان واحد ملک نہیں ہے جو فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان کے خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے، بلکہ اب افغانستان میں موجود ان دہشت گرد نیٹ ورکس سے وابستہ خطرات کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط اتفاقِ رائے پیدا ہو رہا ہے، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا ہو گا۔