اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 27-2026 کا 17 ہزار 500 سے 18 ہزار ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سہ پہر 3 بجے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں بجٹ دستاویزات پیش کریں گے۔
بجٹ کی حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا گیا ہے، جہاں وزیر خزانہ کابینہ کو بجٹ کے خدوخال پر بریفنگ دیں گے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا مجموعی ہدف 15 ہزار 264 سے 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کی توقع ہے۔ دفاعی بجٹ کے لیے 3 ہزار ارب روپے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان مرتب کیا گیا ہے، جبکہ برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیا جائے گا۔
عوامی اور ملازمین کے ریلیف کے حوالے سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جائیداد کی خرید وفروخت پر فائلرز کے لیے ٹیکس میں کمی پر اتفاق کر لیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان بجٹ میں کیا جائے گا۔
ریٹیلرز کے لیے نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے برآمدی شعبے کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان بھی متوقع ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا تھا کہ رواں سال معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نہ ہونے کی صورت میں 4 فیصد سے تجاوز کر جاتی۔ اس وقت پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر پہنچ چکا ہے۔