ایران اور بھارت کے دیرینہ سفارتی و اسٹریٹجک تعلقات شدید ترین بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ نئی دہلی میں قائم ایرانی سفارتی مشن نے بھارت کے میڈیا پراپیگنڈا نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بھارتی حلقوں کو ایرانی قوم کا دشمن اور میڈیا مسخرا قرار دیا ہے، جس سے دہائیوں پر محیط باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی سفارت خانے کی جانب سے یہ سخت ترین ردعمل تہران کے سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی مشن کے مطابق دو ممالک کے 5 شہروں میں ہونے والی ان تقریبات میں 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی، لیکن ایرانی قوم کے دشمن اور ان کے میڈیا مسخرے اتحاد کے اس غیر معمولی مظاہرے کو برداشت نہیں کر پا رہے اور من گھڑت بیانیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ تناؤ اس وقت عروج پر پہنچا جب بھارتی را کے حمایت یافتہ سکیورٹی تجزیہ کار میجر گورو آریا کی جانب سے ایران کے خلاف شدید پراپیگنڈا مہم چلائی گئی۔ بھارتی ٹی وی میزبان گورو آریا نے مئی 2025 میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی، جس پر نئی دہلی کی مسلسل خاموشی کو تہران میں سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی سمجھا گیا۔
ایرانی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بھارت نے اپنی روایتی غیر جانبدار خارجہ پالیسی سے ہٹ کر تہران سے دوری اختیار کر لی ہے اور اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک قربت بڑھا لی ہے۔ امریکی و اسرائیلی حملوں سے چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے حملوں کے بعد بریفنگ لینے کے اعتراف نے تہران کے شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی سفارتی بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ ایرانی صدر کی باقاعدہ دعوت کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی جنازہ تقریبات میں شرکت نہ کرنا بھی بنی، جسے تہران نے سردمہری کا کھلا مظاہرہ قرار دیا۔
عسکری اور سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ معاشی اور اسٹریٹجک محاذ پر بھی تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت نے اپنے حالیہ بجٹ میں ایران کی اہم چاہ بہار بندرگاہ کے لیے فنڈنگ مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کم ہو کر محض 1.68 ارب ڈالر رہ گئی ہے، اور بھارت نے چاہ بہار منصوبے کے 10 سالہ معاہدے کے تحت آخری 120 ملین ڈالر کی ادائیگی کر کے اپنی وابستگی محدود کر لی ہے۔
اس سے قبل فروری 2026 میں بھارت کی جانب سے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کو روکنے کے اقدام کو تہران نے واشنگٹن کے دباؤ کے سامنے نئی دہلی کا جھکاؤ قرار دیا تھا، جبکہ بھارت کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائی اپنی حدود میں غیر قانونی شپ ٹو شپ منتقلی روکنے کے لیے کی گئی۔
سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق تہران کا حالیہ انتباہ واضح کرتا ہے کہ خطے میں نئی سفارتی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں۔ اگرچہ نئی دہلی کی جانب سے ان تمام الزامات پر ابھی تک باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم موجودہ بیانیے نے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا دونوں ممالک اس بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کر پاتے ہیں یا نہیں۔
دیکھیے: امریکہ ایران کشیدگی کے دوران مذاکرات جاری، ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے اہم رابطہ