لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

افغانستان میں پسند کی شادی پر مبینہ قتل، طالبان دور میں خواتین پر مظالم کا سلسلہ تیز

افغانستان میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے مبینہ قتل کے بعد طالبان دور میں خواتین پر مظالم اور جبری شادیوں کے سلسلوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
افغانستان میں پسند کی شادی پر مبینہ قتل، طالبان دور میں خواتین پر مظالم کا سلسلہ تیز

افغانستان میں پسند کی شادی پر جوڑے کے مبینہ قتل اور 14 سالہ لڑکی کے جبری نکاح و قتل کے بعد طالبان حکومت میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔

July 24, 2026

طالبان دورِ حکومت میں ایک بار پھر انسانی حقوق سے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ مختلف رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پسند کی شادی کرنے والے ایک نوجوان اور خاتون کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسے دیگر افراد کو خوفزدہ کرنے کے لیے پھیلایا گیا۔ تاہم اس ویڈیو اور واقعے کی آزاد ذرائع یا کسی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ اس واقعے سے چند روز قبل بھی افغانستان سے ایک ایسا ہی چشم کشا واقعہ رپورٹ ہوا تھا، جس میں مبینہ طور پر ایک 63 سالہ بزرگ شخص کی 14 سالہ کم سن لڑکی کے ساتھ جبری شادی کرائی گئی تھی۔ بعد ازاں اسی لڑکی کو قتل کر دیا گیا، جس پر انسانی حقوق کے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات طالبان دور میں خواتین اور کم سن بچیوں کے حقوق کی پامالی اور ان پر ہونے والے مظالم کے تسلسل کی ایک اور مثال ہیں، اور اس سلسلے میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب طالبان حکومت پہلے ہی خواتین کے حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق عالمی تنقید کی زد میں ہے۔ اقوامِ متحدہ اور ہیومن رائٹس واچ اپنی مختلف رپورٹس میں افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت، نقل و حرکت اور دیگر بنیادی حقوق پر عائد پابندیوں پر مسلسل تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

دوسری جانب طالبان حکام کی جانب سے ان واقعات پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

دیکھیے: نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *